
قرآن شریف میں سورۃ رحمٰن میں "فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ" اور سورۃ قمر میں "وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ" کے آخری حرف جو کہ مشدد ہے، اور ان جیسے دیگر الفاظ انہیں کس طرح پڑھیں گے، (کیا غنہ کے ساتھ ان تمام الفاظ کو یا غنہ کے بغیر)۔
واضح رہے کہ 'غنہ' صرف "نون اور میم" پر ہوتا ہے، اس کے علاوہ حرف پر غنہ نہیں ہوتا، نیز 'نون' جب مشدد ہو تو اس پر غنہ ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سورہ رحمٰن کی آیت "فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ" کے آخری حرف (نون) کو غنہ کے ساتھ پڑھا جائے گا، البتہ سورۃ قمر کی آیت "وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ" کے آخری حرف (راء) کو بغیر غنہ کے پڑھا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144605100809
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن