بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن کی جھوٹی قسم کھانے وبال


سوال

ایک ہی بات پر قران کی دو بار جھوٹی قسم کھانا اور پھر دوبارہ یہ کہے کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر بات کر رہی ہوں ،پھر  جائے نماز پرجھوٹ بولے،تو اس کی معافی کیسے ہوگی؟

جواب

قرآنِ  کریم کی   جھوٹی قسم  کھانا سخت  ترین گناہِ کبیرہ ہے۔ حدیث شریف میں جھوٹی قسم کو شرک وغیرہ کے بعدبڑا اورسنگین گناہ کہاگیا ہے اور جھوٹی قسم جب قرآن اٹھاکر یا اس کا ذکر کرکے کھائی جائے تو اس گناہ  کی سنگینی مزید بڑھ  جاتی ہے،اسی طرح اللہ کو گواہ بناکرجھوٹی بات کرنایہ بھی سنگین گناہ ہے،   بہرحال اب توبہ استغفار کیاجائے، گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی جائے اورآئندہ کے لیے اس طرح نہ کرنے کا عزم کرلیا جائے۔

باقی جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ نہیں ہے،  فقط سچے دل سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ تاہم اللہ کی رضا کے لیے اور گناہ کی معافی کے لیے اگر کچھ صدقہ خیرات کردے تو بہتر ہے۔

صحيح البخاري میں ہے: 

"حدثنا فراس، قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس."

(كتاب الأيمان والنذور، باب: اليمين الغموس، ج:2456، ط:دار ابن كثير)

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌حلف ‌على ‌يمين ‌فاجرة؛ ليقتطع بها مال امرئ مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان."

 (‌‌ومن مسند عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، ‌‌باب ،ج:10، ص:157، ط:مكتبة ابن تيمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وھي أي: الیمین باللہ تعالی … غموس تغمسه فی الإثم ثم فی النار، وھي کبیرة مطلقاً … إن حلف علی کاذب عمداً … کو اللہ ما فعلت کذا عالماً بفعله أو … کواللہ ما له علي ألف عالماً بخلافه وواللہ إنه بکر عالماً بأنه غیرہ … ویأثم بھا فتلزمه التوبة."

(کتاب الأیمان، ج:3، ص:705، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولايخفى أنّ الحلف بالقرآن الآن متعارف؛ فيكون يمينًا."

(‌‌كتاب الأيمان، ج:3، ص:712، ط:سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں