بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآن کی ایک آیت پر اعتراض


سوال

اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ نیک عورتوں کے لئے نیک مرد ہیں اور بری عورتوں کے لئے برے مرد ہیں تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نیک کیوں نہیں تھی اور حضرت آسیہ نیک عورت تھیں تو ان کا شوہر فرعون نیک کیوں نہیں تھا ؟"

جواب

قرآن کریم کی جس آیت کا مفہوم پیش کیا ہے وہ سورہ نور کی یہ آیت"الْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبَاتِ "الخ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ گندی عورتیں، گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد، گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور پاک صاف عورتیں پاک صاف مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور پاک صاف مرد، پاک صاف عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔

مذکورہ آیت میں اللہ رب العزت نے انسانی طبائع کے میلان کو بیان  فرمایا ہےکہ جس کی طبیعت بری ہو اس کی رغبت بھی بری طبیعت والوں کی طرف ہوتی ہے، اور طبیعت کا اچھایا برا ہونے میں اسلام یا کفر کا کوئی تعلق نہیں، لہذا لوط علیہ السلام  اور نوح علیہ السلام کی بیویاں کفر کے باوجود بدکاری میں مبتلا نہیں تھی ۔

نیز حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا  نے جب فرعون سے نکاح کیا اس وقت  مسلمان کا نکاح کافر سے جائز تھا، ان پر مفارقت واجب نہ تھی پھر اسلام نے اسے منسوخ کیا،صلح حدیبیہ سن 6 ہجری کے موقعہ پر آیت کریمہ جس میں ہے "وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ" (الآیة) نازل ہوئی اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں تحریر فرماتے ہیں مراد آیت کی یہ ہے کہ اب تک جو مسلمان اور مشرکوں کے درمیان مناکحت کی اجازت تھی وہ ختم کردی گئی اب کسی مسلمان کا نکاح مشرک عورت سے جائز نہیں اور جو نکاح پہلے ہوچکے ہیں وہ بھی ختم ہوچکے اب کسی مشرک عورت کو نکاح میں رکھنا حلال نہیں، لہذا یہ  اعتراضات درست نہیں ۔

حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں  لکھتے ہیں:

"اس آخری آیت میں اول تو عام ضابطہ یہ بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے، گندی اور بدکار عورتیں، بدکار مردوں کی طرف اور گندے بدکار مرد، گندی بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیا کرتے ہیں، اسی طرح پاک صاف عورتوں کی نیت پاک صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے اور پاک صاف مردوں کی رغبت پاک صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے اور ہر ایک اپنی اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہے اور قدرةً اس کو وہی مل جاتا ہے، اس عام عادت کلیہ اور ضابطہ سے واضح ہوگیا کہ انبیاء علیہم السلام جو دنیا میں پاکی و صفائی ظاہری و باطنی میں مثالی شخصیت ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالی ان کو ازواج بھی ان کے مناسب عطا فرماتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء کے سردار ہیں ان کو ازواج مطہرات بھی اللہ تعالی نے پاکی اور صفائی ظاہری اور اخلاقی برتری میں آپ ہی کی مناسب شان عطا فرمائی ہیں اور صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان سب میں ممتاز ہیں، ان کے بارے میں شک و شبہ وہی کرسکتا ہے جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو، اور حضرت نوح و حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کے بارے میں جو قرآن کریم میں ان کا کافر ہونا مذکور ہے تو ان کے متعلق بھی یہ ثابت ہے کہ کافر ہونے کے باوجود فسق و فجور میں مبتلا نہیں تھیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا"ما بغت امرأة نبی قط" یعنی کسی نبی کی عورت(بیوی) نے کبھی زنا نہیں کیا (ذکر فی الدر المنشور) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نبی کی بیوی کافر ہوجائے اس کا تو امکان ہے مگر بدکار فاحشہ ہوجائے یہ ممکن نہیں، کیوں کہ بدکار طبعی طور پر موجب نفرت عوام ہے، کفر طبعی  طورپرنفرت کا موجب نہیں۔"

(ج:6، ص:384، ادارۃ المعارف)

تفسیر مظہری میں ہے:

"وقوله فَخانَتاهُما اى فى الدين والعمل لا فى الفراش."

(ج:5، ص:92، رشیدیہ)

   فقہ النوازل میں ہے:

"شرع من قبلنا شرع لنا مالم یرد في شرعنا ما ینسخه واختلاف الدین لم یجب علي نوح ولوط مفارقة زوجتیهما الکافرتین ولم یوجب علي آسیة مفارقة زوجھا فرعون."

(ج:2، ص:1024، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں