
واضح رہے کہ عورتوں کے لیے ایام مخصوص میں قران مجید کی آیات کو بطور دعا یا وظیفہ پڑھنا اس وقت درست ہے جب کہ آیت کے اندر دعا کا معنی بھی ہو ،مطلقاً اجازت نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے لیے سورہ مائدہ کی آیت کریمہ کو بطور وظیفہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔لہذا مذکورہ تعداد پاکی کے ایام میں پوری کی جائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح) وزيارة قبور، ودخول مصلى عيد (وأكل وشرب بعد مضمضة، وغسل يد) وأما قبلهما فيكره لجنب لا حائض ما لم تخاطب بغسل، ذكره الحلبي.
(قوله وقراءة قرآن) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور كما قدمه المصنف (قوله بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به كما قدمناه عن العيون لأبي الليث وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية."
(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 293، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704102098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن