
یہ واقعہ غالباً 2011 یا 2012 کا ہے۔ اُس وقت میری عمر تقریباً 12 یا 13 سال تھی اور میں مدرسے میں پڑھتا تھا۔ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے جب کبھی تھک جاتے تھے تو وقت گزارنے کے لیے ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا لیتے تھے، اسے قرآنِ کریم کے صفحے کے کنارے پر رکھتے تھے اور پھر انگلی سے ہلکا سا جھٹکا دیتے تھے۔
اس دوران دل میں یہ تصور کرتے تھے کہ اگر کاغذ کا ٹکڑا دوسرے صفحے تک پہنچ گیا تو گویا 6 رنز ہوگئے، اگر فلاں لائن تک پہنچا تو 4 رنز ہوگئے، اور اگر کسی اور مخصوص لائن تک پہنچا تو 2 رنز ہوگئے۔ اس طرح ہم اسے ایک کھیل کی صورت دے کر وقت پاس کرتے تھے۔
جہاں تک مجھے یاد ہے، میرا مقصد قرآنِ کریم کا مذاق اڑانا یا اس کی بے ادبی کرنا نہیں تھا، بلکہ محض وقت پاس کرنا مقصود تھا۔ یہ بھی یاد نہیں کہ یہ حرکت میں اکیلے کرتا تھا یا کوئی دوست بھی اس میں شریک ہوتا تھا۔
اب سوال یہ ہےکہ اس قسم کی حرکت کی وجہ سے کیا مجھ پر صرف توبہ و استغفار لازم ہے یا تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً کم سنی (تقریباً 12 یا 13 سال کی عمر) میں قرآنِ کریم کی تلاوت کے دوران وقت پاس کرنےکے لیے کاغذ کے ایک ٹکڑے کو صفحے پر حرکت دے کر مختلف مقامات تک پہنچنے کو رنز(چوکا ،چھکا) وغیرہ سے تعبیر کیا جاتا تھا، اور اس فعل سے قرآنِ کریم کی بے ادبی ، اس کی توہین کرنا مقصود نہ تھا، تو محض مذکورہ حرکت کی بنا پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
البتہ قرآنِ کریم مقدس کلام ہے ، ہر اعتبار سے اس کا ادب لازم ہے ، اور اس قسم کاطرزِ عمل سوءِادب ہے، اس لیے اس پر ندامت، توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔لہذا سائل پر اس فعل کی وجہ سے مذکورہ صورت کے مطابق تجدیدِ ایما ن یا تجدیدِ نکاح لازم نہیں ، البتہ توبہ استغفار کرنا لازم ہے۔
سننِ ابی داؤد میں ہے:
"عن عائشة: أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: "رُفِعَ القلمُ عن ثلاثةٍ: عن النائم حتى يستيقظَ، وعن المُبتَلَى حتى يبرأ، وعن الصَّبىِّ حتى يَكْبَر."
ترجمہ:"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قلم تین آدمیوں سے اٹھالیا گیا ہے، سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، مجنوں سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے، بچہ پر یہاں تک کہ بڑا (یعنی بالغ) ہوجائے۔"
( کتاب الحدود، باب فی المجنون یسرق،ج:6، ص:452، ط:دار الرسالة العالمية)
مجمع الانہر میں ہے:
"إذا أنكر آية من القرآن واستخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوه مما يعظم في الشرع أو عاب شيئا من القرآن أو خطئ أو سخر بآية منه كفر."
(كتاب السير،باب ا لمرتد،ألفاظ الكفر أنواع،ج:1،ص:692، ط:دار إحیاء التراث العربی)
حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
"والصحيح أنه إن استحل ذلك عند فعل المعصية كفر، وإلا لا، وتلزمه التوبة إلا إذا كان على وجه الاستخفاف فيكفر أيضا."
(خطبة الكتاب،ص:6،ط:دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100311
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن