بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قرعہ اندازی کے ذریعے انعام دینے کی صورت میں تعلیق الملک علی الخطر پایا جاتا ہے؟


سوال

ایک دکاندار اپنی دکان پر سیل لگاتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ جو شخص اس سے خریداری کرے گا اسے خریداری کا پورا عوض بھی دیا جائے گا، نیز خریدار کا نام ایک انعامی قرعہ اندازی میں بھی شامل کیا جائے گا، جسے عام زبان میں لاٹری کہا جاتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس طرح خریداری کے ساتھ انعام دینا اور لینا اور قرعہ اندازی میں نام شامل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

بندے کو اس مسئلے پر یہ اشکال ہے کہ اس میں متعلقہ چیز دینے کو نام نکلنے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جو کہ "تعلیق الملک علی الخطر" ہے جو کہ ٹھیک نہیں۔

جواب

اگر کوئی دکاندار اپنی دکان پر سیل لگاتا ہے اور ایسا کوئی اعلان کرتا ہے کہ جو شخص اس کی دکان سے خریداری کرے گا تو اسے قرعہ  اندازی میں شامل کیا جائے گا اور نام نکلنے کی صورت میں انعام دیا جائے گا تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے اور نام نکلنے کی صورت میں انعام وصول کرنا بھی جائز ہے مگر اس کے لیے چند شرائط ہیں، وہ شرائط یہ ہیں:

(1)  دكان دار   سامان کی قیمت اتنی ہی مقرر کرے جو کہ مارکیٹ میں ایسے سامان کی رائج ہو،یعنی  اس سامان کی عام قیمت میں قرعہ اندازی  میں شریک کرنے کے لئے  اضافہ نہ کیا ہو،ورنہ یہ معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

(2)  دكان دار اپنی مصنوعات  کا معیار بھی کم نہ کرے،تا کہ انعامی اسکیم کےنام پر کم معیار کی اشیاء سے خریدار کو دھوکہ اور نقصان نہ ہو۔

(3) دكان دار اس انعامی اسکیم کو اپنی ناقص مصنوعات کے نکالنے کا ذریعہ نہ بنائے، یعنی انعام  کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی ناقص مصنوعات خریدنے کی طرف راغب نہ کرے۔

چنانچہ اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تو   دكان دار  کا قرعہ اندازی کے ذریعہ گاہک کو انعام دینا دکان دار  کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور گاہک  کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط  میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو گي  تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا۔

مذکورہ انعام کے جواز پر اگر آپ کو یہ اشکال ہے کہ اس میں تعلیق التملیک علی الخطر ہے تو سمجھنا چاہیے کہ جب متعدد افراد کسی مباح یا مساوی حق میں برابر ہوں اور کسی ایک کو ترجیح دینے کی کوئی دوسری شرعی بنیاد موجود نہ ہو، تو قرعہ اندازی  جائز  ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"إذا قال أرقبتك هذه الدار أو صرح فقال جعلت هذه الدار لك رقبى أو قال هذه الدار لك رقبى ودفعها إليه فهي عارية في يده له أن يأخذها منه متى شاء وهذا قول أبي حنيفة ومحمد ...

واحتجا بما روى الشعبي عن شريح «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أجاز العمرى وأبطل الرقبى» ومثلهما لا يكذب ولأن قوله داري لك رقبى تعليق التمليك بالخطر لأن معنى الرقبى أنه يقول إن مت أنا قبلك فهي لك وإن مت أنت قبلي فهي لي سمى الرقبى من الرقوب والارتقاب والترقب وهو الانتظار لأن كل واحد منهما ينتظر موت صاحبه قبل موته وذلك غير معلوم فكانت الرقبى تعليق التمليك بأمر له خطر الوجود والعدم والتمليكات مما لا تحتمل التعليق بالخطر فلم تصح هبة وصحت عارية."

(كتاب الهبة ، جلد : 6، صفحه: 117، طبع: دار الكتب العلمية)

المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے:

"ذكر في «الأجناس» : ‌القرعة ثلاث: الأولى لإثبات حق وإبطال حق آخر وإنها باطلة، كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه، ثم تعين بالقرعة، والأخرى لطيبة النفس، وإنها جائزة كما يقرع بين النساء ليسافر بها، والثالث لإثبات حق واحد وفي مقابلة مسألة ليقر بها كل حق كالقسمة وهو جائز والله أعلم۔"

(کتاب القسمة، الفصل السادس،ج:7،ص:356،ط:دارالکتب العلمیة)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

" لقوله - عليه الصلاة والسلام -: «المباح لمن سبق إليه» وإن اشتبه عليه حالهم؛ استعمل ‌القرعة، فقدم من خرجت قرعته."

(كتاب آداب القاضي، فصل فی بیان آداب القضاء، ج:7، ص:13، ط:دارالکتب العلمیة)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

" لا بأس باستعمال ‌القرعة في القسمة فقد «استعمل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ذلك في قسمة الغنيمة مع نهيه صلوات الله عليه عن القمار» فدل أن استعماله ليس من القمار."

(کتاب القسمة، ج:15، ص:4، ط:دار المعرفة)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"هذا ليس في معنى القمار ففي القمار أصل الاستحقاق يتعلق بما يستعمل فيه وفي هذاالموضع أصل الاستحقاق بكل واحد منهم لا يتعلق بخروج القرعة، ثم القاسم لو قال: عدلت أنا في القسمة فخذ أنت هذا الجانب وأنت هذا الجانب كان مستقيما إلا أنه ربما يتهم في ذلك فيستعمل القرعة لتطبيب قلوب الشركاء ونفي تهمة الميل عن نفسه، وذلك جائز."

(کتاب القسمة، ج:15، ص:7، ط:دار المعرفة)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"الجائزة: العطية إذا كانت على سبيل الإكرام يقال: أجازه أي: أعطاه جائزة. والجمع جوائز. وقريب منها التحفة فهي ما أتحفته غيرك من البر. قال صاحب اللسان:" وأصلها أن أميرا واقف عدوا وبينهما نهر فقال:من جاز هذا النهر فله كذا، فكلما جاز منهم واحد أخذ جائزة"

(حروف الجیم، ج:15، ص:76، ط:دارالسلاسل الكويت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں