بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قدرتی جنگل کی لکڑیاں کاٹنے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے کو ہستان میں قدرتی جنگلات بہت زیادہ ہیں، جن میں سب سے نمایاں اور قیمتی جنگلات ” دیار “ کے ہیں۔ دیار کی لکڑی بہت مہنگی بکتی ہے اور اس سے اعلیٰ معیار کا فرنیچر وغیرہ بنایا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ”راز یکہ “ کے نام سے ایک علاقہ ہے، جہاں دیار کے درختوں کا ایک بڑا جنگل موجود ہے، یہ جنگل ان لوگوں کے تصرف میں ہے جن کی زمینیں اس علاقے میں واقع ہیں۔ کئی سال پہلے علاقے کے کچھ بزرگوں اور عمائدین نے جنگل کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ اس جنگل سے لکڑی کاٹ کر باہر لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی؛ کیوں کہ اس علاقے کے مالکان اور رہائشی لوگ گرمیوں میں وہاں قیام کرتے ہیں اور سردیوں (اکتوبر ، نومبر ) میں گرم علاقوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں، تو وہ اس دوران دیار کے درخت کاٹ کر نیچے اپنے گھروں کے لیے لے جاتے تھے۔ ان کا مقصد گھر بنانا یا فرنیچر تیار کرنا ہوتا تھا۔ اس عمل سے جنگلات کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ اسی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کوئی بھی شخص یہاں سے لکڑی کاٹ کر دوسرے علاقوں میں نہیں لے جائے گا۔ تاہم یہ معاہدہ تمام اقوام کی باہمی مشاورت سے نہیں ہوا تھا۔ کچھ قو میں ایسی تھیں جن کے نمائندے اس فیصلے میں شامل ہی نہیں تھے۔ اب اس معاہدے کو کئی سال گزر چکے ہیں اور جن لوگوں نے یہ فیصلہ کیا تھا، ان میں سے اکثر وفات پاچکے ہیں، اب بعض محلوں میں اس معاہدے میں ترمیم کر دی گئی ہے، جس کے مطابق یہ گنجائش دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت، جیسے گھر کی تعمیر وغیرہ کے لیے لکڑی استعمال کرنا چاہے ، تو وہ اس علاقے سے لکڑی کاٹ کر دوسرے علاقے میں لے جاسکتا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ :

1. ایک شخص کا اس علاقے کے جنگلات میں حصہ ہے، جہاں ماضی میں بعض عمائدین نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ یہاں سے لکڑی کاٹ کر دوسرے علاقوں میں لے جانا ممنوع ہو گا۔ تاہم اس معاہدے میں اُس شخص کی قوم یا خاندان کی کوئی نمائندگی شامل نہیں تھی۔ اب وہ شخص کسی دوسرے علاقے میں اپنے لیے مکان بنانا چاہتا ہے اور اسے لکڑی کی ضرورت ہے۔ تو کیا شریعت مطہرہ کی روشنی میں اسے اجازت حاصل ہے کہ وہ اپنے حصے کی لکڑی ان جنگلات سے کاٹ کر دوسرے علاقے میں لے جائے تا کہ گھر کی تعمیر یا دیگر ضروری ضروریات کے لیے استعمال کرسکے ؟

2. کیا قدرتی جنگلات کسی مخصوص قوم یا قبیلے کی ملکیت بن سکتے ہیں ؟ اگر بن سکتے ہیں تو اس کے لیے شرعی طور پر کیا شرائط و ضوابط ہیں ؟

جواب

1-صورتِ مسئولہ میں عمائدینِ علاقہ نے جس مصلحت کے پیشِ نظر جو فیصلہ کیا تھا، اگر اہلِ علاقہ اب بھی اس فیصلے پر کاربند اور عمل پیرا ہیں، تو مذکورہ شخص کو بھی اس فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
اور اگر اہلِ علاقہ اس فیصلے پر عمل پیرا نہیں رہے اور یہ معاہدہ عملاً ترک ہوچکا ہے، تو پھر یہ شخص بھی اس فیصلے کا پابند نہیں، اور وہ لکڑی کاٹ کر دوسرے علاقے میں لے جا سکتا ہے۔

البتہ اگر وہ جنگلات حکومتی ملکیت میں ہوں، یا حکومت نے ان پر قبضہ کر رکھا ہو، تو کسی کے لیے بھی بغیر اجازت وہاں سے لکڑی کاٹنا جائز نہیں ہوگا۔اسی طرح اگر جنگل حکومتی ملکیت میں تو نہ ہو، لیکن حکومت کی جانب سے  لکڑی کاٹنے کی ممانعت ہو، تو اگرچہ شرعاً ایسے جنگل کی لکڑی کاٹنے کی اصل میں گنجائش ہے، تاہم چوں کہ اس میں مقدمہ قائم ہونے اور اس کے نتیجے میں رسوائی کا اندیشہ ہے، اور مسلمان کو ذلت سے بچنا شرعاً واجب ہے، اس لیے ایسی صورت میں بھی احتیاط اور پرہیز بہتر ہے۔

2۔ جو جنگلات کسی کی مملوکہ نہ ہوں اور نہ ہی قریب کے گاؤں کے مصالح و منافع ان سے وابستہ ہوں، ایسے جنگلات کو اگر کوئی فرد، قبیلہ یا قوم حکومت کی اجازت سے آباد کرے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر حکومتی اجازت کے ان پر قبضہ کرے تو وہ قانوناً اور شرعاً ان جنگلات کا مالک نہیں ہوگا۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (من أحيا أرضا ميتة ) أي: غير مملوكة لمسلم، ولم يتعلق لمصلحة بلدة أو قرية بأن يكون مركض دوابهم مثلا (" فهي له ") ، أي: صارت تلك الأرض مملوكة له، لكن إذن الإمام شرط له عند أبي حنيفة رحمه الله ."

(کتاب البيوع، باب الغصب والعارية، 1973/5، ط:دار الفكر)

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

"أعلم أن الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا أحل حراما، أو حرم حلالا، والمسلمون عند شروطهم إلا شرطا حرم حلالا".

وهذا الخبر يدل على جواز الصلح على الإنكار من وجهين:

أحدهما: قوله: "الصلح جائز إلا صلحا أحل حراما، أو حرم حلالا"، ولم يثبت ها هنا ما يوجب التحريم، فهو على الجواز.

والثاني: قوله: "‌المسلمون ‌على ‌شروطهم"، والصلح شرط، فلزمه الوفاء به حتى يثبت التحريم."

(کتاب الصلح، ج:3، ص:194، ط:دار البشائر الإسلامية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والحطب في ملك رجل ‌ليس ‌لأحد ‌أن يحتطبه بغير إذنه، وإن كان غير ملك فلا بأس به، ولا يضر نسبته إلى قرية أو جماعة ما لم يعلم أن ذلك ملك لهم، وكذلك الزرنيخ والكبريت."

(كتاب إحياء الموات، ج:6، ص:440، ط:سعید)

درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام العدلیہ میں ہے:

"الأشجار التي نبتت من نفسها في الجبال المباحة أي الجبال التي لم تدخل في يد تملك أحد مباحة) كذلك الأشجار المنسوبة إلى قرية أو أهلها الواقعة في فناء القرية ولم تكن في ملك أحد الخاص فلا بأس من احتطابها إذا لم يكن معلوما بأنها ملك لأحد."

(الكتاب العاشر الشركات، باب رابع، رقم المادۃ:1243، ج:3، ص:255، ط:دار الجيل)

وفیه أیضاً:

"الأشجار النابتة من نفسها أو المغروسة من أحد وغير معلوم غارسها في ملك أحد هي ملكه وليست مشتركة بين الناس ومباحة لهم فلذلك ليس لآخر احتطابها بدون إذنه."

(الكتاب العاشر الشركات، باب رابع، رقم المادۃ:1243، ج:3، ص:255، ط:دار الجيل)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيره فالأرض الموات هي أرض خارج البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا فلا يكون داخل البلد موات أصلا وكذا ما كان خارج البلدة من مرافقها محتطبا لأهلها ومرعى لهم لا يكون مواتا."

(كتاب إحياء الموات، باب اوّل، ج:5، ص:385، ط:دار الفکر)

امداد الاحکام میں ہے:

”اگر کسی جنگل پر کسی خاص صورت سے قبضہ ہوا جس کو عرفاً قبضہ کہاجاسکے گورنمنٹ کا قبضہ ہوگیا تو بدون اجازت یا خرید کےاس جنگل کی لکڑیاں کاٹنا درست نہیں ہے،اور اگر قبضہ نہیں ہواویسے ہی ممانعت ہےتو اگر زمین کسی کی مملوک نہیں  اور درخت بھی خودرو ہیں تو ان کی لکڑی کاٹ لینا درست ہے، مگر چونکہ اس میں مقدمہ قائم ہونے کا اندیشہ ہےجس میں ذلت ہوگی ،اور مسلمان کو ذلت سے بچنا واجب ہے،اس لئے اس صورت میں بھی چوری سے بچنا چاہیے۔“

(مسائل متفرقہ، اس جنگل کی لکڑیاں کاٹنے کاحکم جس پرحکومت نے قبضہ نہیں کیاہو مگر ممانعت  کررکھی ہے،409/4،ط،مکتبہ دار العلوم، کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں