بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1448ھ 22 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قدرتی چشمہ سے متصل غیر آباد زمین کی ملکیت کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں کی آبادی تقریباً 30 یا 40 گھروں پر مشتمل ہے، اور ہر ایک کے کچھ باغات ہیں جن کی سیرابی کا انتظام ایک چشمے سے ہوتا ہے، جس کے پانی کی مقدار پانچ انچ کے قریب ہے۔ یہ چشمہ قدرتی ہے، جو بہت قدیم زمانے سے ایک پہاڑ سے جاری ہے۔ اس چشمے کے شروع میں، چشمے سے متصل دائیں بائیں جانب کچھ جگہ خالی ہے، جس پر جھگڑا ہے۔

جو گھر اس کے قریب ہے، وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ گاؤں والوں کے لیے صرف پانی اور مرور کا حق ہے، باقی جو خالی (ینی غیر آباد)جگہ ہے وہ میری ہے،  میں اس میں آبادی کروں گا۔ جبکہ گاؤں والے کہتے ہیں کہ یہ جگہ تمہاری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ مشترکہ چراگاہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ: کیا اس چشمے کے لیے حریم ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنا، کس طرف، اور اس حریم کی زمین کس کی ہوگی؟ اور اگر نہیں ہے تو کیا مذکورہ شخص کا اس غیر آبادجگہ پر دعویٰ معتبر ہوگا یا نہیں؟

نوٹ: مذکورہ شخص کا دعویٰ اس بنا پر ہے کہ میرے باغ اور زمین کا رخ اس چشمے کی طرف نکلتا ہے۔ اگر تم مجھے زمین کا حریم نہیں دو گے تو پھر میری زمین کا رخ کہاں ہوگا؟ وہاں جو زمین وغیرہ غیر آباد ہے، وہ رخ کے اعتبار سے تقسیم ہوتی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص اس غیر آباد جگہ پر اپنے دعویٰ ملکیت کو کسی شرعی دلیل سے ثابت کر دے، تو اس صورت میں مذکورہ جگہ  اُسی کی ملکیت شمار ہوگی، اور اُسے ہر قسم کے تصرف (یعنی تعمیر وغیرہ) کا حق حاصل ہوگا۔ ورنہ   مذکورہ جگہ کا محض اس کی زمین اور باغ کی جانب واقع ہونے سے شرعاً اس کی  ملکیت ثابت نہیں ہوگی، بلکہ اس صورت میں مذکورہ جگہ سب  کی  مشترکہ چراگاہ شمار  ہوگی،  کسی ایک  کےلیے اس پر تعمیر کرنا یا اسے آباد کرنا  شرعاًدرست نہیں ہوگا۔
ملحوظ  رہے کہ حریم اُس چشمے کا ہوتا ہے جو کسی نے خود کھود کر بنایا ہو، قدرتی چشمے کے لیے شرعاً کوئی حریم نہیں۔

النتف فی الفتاویٰ میں ہے:

"‌البينة ‌على ‌المدعي:

قال النبي صلى الله عليه وسلم لو ترك الناس على دعواهم لأهلك بعضهم بعضا ولكن ‌البينة ‌على ‌المدعي واليمين على من أنكر."

(کتاب الدعویٰ و البینات، ج: 2، ص: 786، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"الأراضي القريبة من العمران أي الخارجة عن العمران أو القريبة منه تترك للأهالي على أن تتخذ مرعى أو بيدرا أو محتطبا ولا يعد انتفاع الأهالي منقطعا عن تلك الأراضي."

(الكتاب العاشر: الشركات،‌‌الباب الرابع في بيان شركة الإباحة،الفصل الخامس في إحياء الموات،المادة: 1271،ج:3،ص:280،ط:دار الجیل)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ما كان من مرافق أهل البلدة فهو حق أهل البلدة كفناء دارهم."

(كتاب الأراضي،ج:6،ص:194، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

''(‌ولا ‌يجوز ‌إحياء ‌ما ‌قرب ‌من ‌العامر) ‌بل ‌يترك ‌مرعى ‌لهم ‌ومطرحا لحصائدهم لتعلق حقهم به فلم يكن مواتا وكذا لو كان محتطبا.

(قوله ولا يجوز إلخ) التقييد بالقرب مبني على قول أبي يوسف، وقد مر أن ظاهر الرواية اعتبار حقيقة الانتفاع قربأو بعد كما أفاده الأتقاني

(‌‌كتاب إحياء الموات،ج:6،ص:433،ط:سعید)

احسن الفتاوی میں ہے:

''چشمے کا حریم"

سوال: ایک وادی میں دو چشمے ہیں اور دونوں کے درمیان کم از کم 200 ذراع کا فاصلہ ہےآیا یہ 200  ذراع صرف ایک چشمے کے لیے ہوں گے یا دونوں کے لیے ؟بینو اتوجروا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر یہ چشمے قدرتی ہے تو ان کا کوئی حریم نہیں ہے اور اگر لوگوں نے خود کھو دے ہیں تو جو چشمہ پہلے نکالا گیا ہو اس کا حریم جوانب اربعہ میں 500 ذراع ہوگا اور دوسرے کا جوانب ثلاثہ میں 500 ذراع ،پہلے چشمے کی طرح اس کا حریم نہیں ۔''

(کتاب احیاء الأموات، ج: 8،ص:457،ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں