بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کے بدلے کرایہ وصول کرنا حرام ،اور جواز کی صورت


سوال

میری ایک دکان  تھی مارکیٹ میں  پکڑی پر،جس کی پگڑی میں پندرہ ہزارروپے ادا کرتاتھا،کافی  عرصہ سے وہ دکان مجھ سے چل نہیں رہی تھی،تو میں نے وہ دکان کسی بندے کو بھاری رقم (پچاس لاکھ)ایڈوانس لے کر بغیرکرایہ پر دے دی ،اور جو اس دکان کی پگڑی تھی پندرہ ہزاروہ بندہ جس نے دکان لی ہے دکان کے مالک کو اداکرتا ہے،مجھے اس سے پیسے نہیں ملتے،اور میرا اس سے تین سال کا ایگریمنٹ تھا جو پورا ہوچکا ہے،اس وقت میرے معاشی حالات بہت خراب ہوگئے ہیں،بہت مشکل سے گذارا ہورہاہے،میرے بھتیجے نے کہا کہ میرے پاس انویسٹر ہےجو آپ کو یہ دکان واپس دلوادیں گے،لیکن اس کے بدلے اس کو اس دکان کا کرایہ مطلوب ہے،ظاہر سی بات ہے کہ بندہ کسی جگہ پر انویسٹ کرتاہےتو اس کا پروفٹ لیتا ہے،تو میں نے یہ پوچھنا تھاکہ یہ معاملہ درست ہے کہ میں ان سے پچاس لاکھ لے کران کو کرایہ دے سکتاہوں،اس سے میری بھی کچھ آمدنی ہوجائے گی،آیا یہ سودی معاملہ تونہیں؟اگر اس میں کوئی ایسے معاملات ہیں تو ہمیں اس کا طریقہ کاربتادیں کہ ہم اس کو شریعت کے مطابق کس طرح کرسکتے ہیں؟

جواب

 صورت مسئولہ میں جب ایک شخص سائل کی طرف سے دکان کے ایڈوانس کی   رقم کرایہ دار کو   ادا کر رہا ہےتاکہ وہ دکان خالی کردے  تو اس رقم کی حیثیت قرض کی ہے، اس قرض کے عوض کسی بھی قسم کی اضافی رقم وصول کرنا شرعاً سود ہے، لہذا سائل کی طرف سے دکان کی رقم ادا کرنے والا شخص صرف اپنی دی ہوئی رقم ہی وصول کرے گا، اور اس کےلیے اس کے علاوہ اضافی رقم مثلاًدکان کا ہر ماہ کا کرایہ وصول کرناناجائز ہوگا۔

واضح رہے کہ ہر معاملہ کا متبادل نہیں ہوتا ،اور مسئلہ مذکورہ میں چونکہ نہ دکان آپ کی ملکیت ہے اور نہ ہی آپ کے پاس اجارہ پرہے بلکہ یہ پگڑی کا معاملہ ہے ،لہذا اس مسئلہ میں شرکت کی بھی گنجائش نہیں ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌أكل ‌الربا ‌وموكله ‌وكاتبه ‌وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم."

(‌‌كتاب البيوع،‌‌الفصل الأول،ج:2،ص: 855،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

 

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن ‌قرض ‌جر ‌نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب."

(كتاب القرض،فصل في شرائط ركن القرض،ج:7،ص: 395،ط:رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا ‌استأجر ‌دارا ‌وقبضها ‌ثم ‌آجرها ‌فإنه ‌يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة، وأما الكنس فإنه لا يكون زيادة وله أن يؤاجرها من شاء إلا الحداد والقصار والطحان وما أشبه ذلك مما يضر بالبناء ويوهنه هكذا في السراج الوهاج."

(كتاب الإجارة،الباب السابع في إجارة المستأجر،ج:4،ص: 425،ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(تصح) (إجارة حانوت) أي دكان «ودار بلا بيان ما يعمل فيها) لصرفه للمتعارف (و) بلا بيان (من يسكنها) فله أن يسكنها غيره بإجارة وغيرها كما سيجيء (وله أن يعمل فيهما) أي الحانوت والدار (كل ما أراد) فيتد ويربط دوابه ويكسر حطبه ويستنجي بجداره ويتخذ بالوعة إن لم تضر ويطحن برحى اليد وإن به ضر به يفتى قنية (غير أنه لا يسكن) بالبناء للفاعل أو المفعول (حدادا أو قصارا أو طحانا من غير رضا المالك أو اشتراطه) ذلك (في) عقد (الإجارة) ؛ لأنه يوهن البناء فيتوقف على الرضا."

(كتاب الإجارة،‌‌باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا فيها،ج:6،ص:28،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں