بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد لی گئی قرض کا مطالبہ سونے کے ریٹ کے حساب سے کرنا شرعا درست نہیں


سوال

ہمارے دادا نے اپنے بچوں کو فیکٹری لگا کر دی،اس فیکٹری کی زمین دادا کے نام پر تھی،اور زمین بھی دادا ہی کی تھی،فیکٹری اپنے بیٹوں کے سپرد کردی تھی،اور کاروبار بیٹوں کے نام پر کرو ادیا تھا،شروع میں تین بڑے بیٹے اس کاروبار کو چلا رہے تھے،بعد میں چھوٹا بیٹا بھی شامل ہوگیا،کاروبار کا سارا منافع فیکٹری میں ایک جگہ جمع ہوتا تھا،اور چاروں بھائیوں کو صرف ماہانہ خرچہ پورا کرنے کے لئے جیب خرچ دیا جاتا تھا،جس میں سے صرف ماہانہ ضروریات ہی پوری ہوتی تھی،باقی جمع شدہ منافع سے کاروبار چلایا جاتا تھا اور مزید بڑھایا جاتا تھا۔

2013 میں میری بہن کی شادی تھی،تو میرے والد نے ان منافع سے پچاس لاکھ روپے لئے،اور کہا کہ میں جتنے پیسے لے رہا ہوں،بٹوارہ کے وقت وہ میں اپنے حصے سے کٹواؤں گا،پھر 2019 میں میرے والد نے میری شادی کے لئے منافع سے پچاسی لاکھ روپے لئے،اور 2019 میں میرے والد کا انتقال ہوا،پھر والد کے انتقال کے بعد میرے دوسرے بھائی کی شادی کے لئے ہم نے منافع سے نوے لاکھ روپے لئے،والد کے انتقال کے بعد ہمارے چچا کاروبار میں سے ہمیں خرچہ دینے کو تنگ کرنے لگے،تو میری والدہ نے ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنا زیور فروخت کیا۔

اب ہم اپنے چچاؤں سے اپنے والد کا حصہ مانگ رہے ہیں،تو وہ کہہ رہے ہیں کہ تمہارے والد نے شادیوں کے موقع پر جو سونا لیا تھا،یعنی اگر میری بہن کی شادی میں پندرہ لاکھ کا سونا لیا،اور میری شادی میں تئیس لاکھ کا لیا،اور بھائی کی شادی میں ساٹھ لاکھ کا لیا،تو ہمارے چچا لوگ کہہ  رہے ہیں کہ جتنا سونا تم لوگوں نے شادیوں کے موقع پر  لیا تھا،تو آج کے حساب سے اس سونے کی جتنی رقم بنتی ہے،لہذا تمہارے والد کے حصے میں سے سونے کے موجودہ قیمت کے حساب سے کٹوتی ہوگی،حالانکہ والد نے اور ہم نے شادیوں کے موقع پر نقد کیش کی صورت میں پیسے لئے تھے،پھر بعد میں اس سے اپنی مرضی سے سونا خریدا تھا،جبکہ ہمارے چچا لوگ سونا کے حساب سے موجودہ قیمت کے اعتبار سے والد کے حصہ سے کٹوتی کرنا چاہ رہے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ ان کا اس طرح کا مطالبہ کرنا اور لئے گئے رقم سے زیادہ رقم کٹوانا  کیا شرعا درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے والد نے اور پھر بعد میں سائل اور اس کے بھائی نے مشترکہ منافع سے جو رقم لی تھی،والد کے اس صراحت کے ساتھ  کہ میں جتنے پیسے لے رہا ہوں،بٹوارہ کے وقت وہ میں اپنے حصے سے کٹواؤں گا،تو  لئے گئے اس رقم کی شرعی حیثیت قرض کی ہے،لہذا سائل کے والد کے حصے سے لئے گئے رقم کے بقدر ہی کٹوتی ہوگی،سائل کے چچاؤں کا اس زیادہ رقم کی کٹوتی کرنا شرعا درست نہیں۔

نیز سائل کے چچاؤں کا سائل کے والد کے حصے سے موجودہ وقت کے اعتبار سے سونے کی رقم کی  کٹوتی کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ،یہ ظلم کے زمرے میں آئےگا ،لہذا جتنی رقم والد صاحب نے لی تھی اتنی ہی رقم ان کے حصے سے منہا کی جائے گی ،اس سے زائد نہیں ۔

جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في قولهم‌ الديون ‌تقضى بأمثالها...قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى بأمثالها...الخ."

(کتاب الرهن، فصل في مسائل متفرقة، ج: 6، ص: 525، ط: ایچ ایم سعید)

وفيه أيضاً :

"فإذا ‌استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا".

(كتاب البيوع، باب الربا، مطلب في استقراض الدراھم عددا، ج: 5، ص: 177، ط: ایچ ایم سعید)

العقود الدریۃ في تنقيح الفتاوى الحامدیۃمیں ہے:

"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب): نعم ولاينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى".

(باب القرض، ج: 1، ص: 279، ط: دار المعرفة)

بدائع الصنائع ميں ہے:

"وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية."

(کتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج: 7، ص: 396، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707100284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں