بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قومہ میں کتنی دیر ٹھہرنا چاہیے؟


سوال

رکوع کے بعد قومہ میں کتنی دیر ٹھہرنا چاہیے؟

جواب

رکوع کے بعد قومہ میںاتنی دیر ٹھہرناواجب ہے کہ بدن سیدھا ہو جائے اور اعتدال کی کیفیت حاصل ہو جائے،مفتی بہ قول کے مطابق قومہ میں ایک مرتبہ تسبیح کہنے کی مقدار ٹھہرنا واجب ہے، اس دوران سنت یہ ہے کہ قومہ  میں امام  "سمع الله لمن حمدہ" اور  مقتدی  "ربنالك الحمد"اور منفرد(تنہا)  تسمیع اور تحمید دونوں کہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما القومة والجلسة وتعديلهما فالمشهور في المذهب السنية، وروي وجوبها، وهو الموافق للأدلة، وعليه الكمال ومن بعده من المتأخرين وقد علمت قول تلميذه: إنه الصواب."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، واجبات الصلاة، ج: 1، ص:  464، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: وتعديل الأركان) وهو تسكين الجوارح في الركوع والسجود حتى تطمئن مفاصله وأدناه مقدار تسبيحة، وهو واجب على تخريج الكرخي، وهو الصحيح، كما في شرح المنية.

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، الركوع والسجود في الصلاة، ج: 3،ص:  316، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701102120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں