
ایک کمپنی QNET کے نام سے کام کر رہی ہے۔ جو ای کامرس E-Commerce) direct selling) کے ذریعے مختلف مصنوعات اور خدمات فروخت کرتی ہے۔ اس کمپنی میں خریدار دو اقسام کے ہوتے ہیں: کچھ افراد صرف کمپنی سے سامان یا سروس خریدتے ہیں بغیر کسی کاروباری نیت کے، جب کہ کچھ افراد سامان یا سروس خریدنے کے ساتھ ساتھ کمپنی کے ساتھ بطور آزاد نمائندہ(independent representative)بھی کام کرتے ہیں۔
جو لوگ بطور آزاد نمائندہ کام کرتے ہیں وہ دو طریقے سے کمیشن حاصل کر سکتے ہیں :
(1)پروڈکٹ بیچ کر
( 2)کسی اور شخص کو کمپنی کے ڈسٹری بیوشن رائٹس بیچ کر اس کو بطورآزاد نمائندہ کام کرنے کا موقع فراہم کرکے کمیشن پروڈکٹس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے دیا جاتا ہے نہ کہ محض نئے آزاد نمائندہ کی شمولیت پر (جس کا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں عام تاثر ہے)
اس نوعیت سے یہ کمپنی جو نیٹ ورک مارکیٹنگ بزنس کر رہی ہے وہ اس کو منفرد اور شفاف بناتا ہے کمپنی میں اس امر کی پابندی نہیں ہے کہ فرد واحد نے صرف آزاد نمائندہ بن کر ہی پروڈکٹ خریدنی یا بیچنی ہے۔ کوئی بھی شخص محض پروڈکٹ کی خریداری بھی کر سکتا ہے جبکہ اپنی مرضی سے آزاد نمائندہ بن کر ڈسٹری بیوشن رائٹس بھی حاصل کر سکتا ہے۔ آزاد نمائندہ بننے کی صورت میں اسے آن لائن پورٹل فراہم کیا جاتا ہے جس کی مینٹیننسکی مد میں سالانہ معمولی فیس واجب الادا ہوتی ہے۔ کمپنی کا مارکیٹنگ نظام نیٹ ورک مارکیٹنگ پر مبنی ہے، جس میں پوائنٹس، کمیشن اور مختلف درجات (Ranks) مقرر ہیں، اور کمیشن ایک متعین حد کے اندر دیا جاتا ہے۔ ریفرنس کے ذریعے سے افراد کو شامل کرنے سے ایک نیٹ ورک فروغ پاتا ہے۔ کمیشن کا فائدہ نیٹ ورک کے تمام افراد کو ہوتا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ صرف بالا سطح پر موجود افراد ہی زیادہ کمیشن حاصل کریں۔ زیریں سطح پر موجود افراد اپنی محنت سے اپنے اوپر والوں سے زیادہ کمیشن بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
فنانشل سسٹم اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ مستقل محنت اور وقت کا متقاضی ہوتا ہے QNET کی مختلف ممالک کے لیے مختلف ریفرنڈ پالیسی ہے اور پاکستان میں آپ پروڈکٹ پر چیز کرنے کے سات دن کے اندر اندر اپنار یفنڈ حاصل کر سکتے ہیں کمپنی حقیقی اور موجود مصنوعات و خدمات فروخت کرتی ہے، معاہدہ واضح اور صریح ہوتا ہے، ادائیگی قانونی ذرائع سے کی جاتی ہے، اور بظاہر اس نظام میں دھو کہ، جہالت (غرر ) یا سود شامل نہیں کیا جاتا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسی کمپنی کے ساتھ خرید و فروخت کرنا، یا بطور آزاد نمائندہ اس میں کام کرنا اور کمیشن حاصل کر ناشر عا جائز ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً (جیسا سائل کا بیان ہے) مذکورہ کمپنی حقیقی مصنوعات فروخت کرتی ہےاور کمیشن پروڈکٹس کی فروخت پر دیتی ہو بشرطیکہ کمیشن متعین ہویعنی فی پروڈکٹ کے حساب سے طے شدہ رقم ہو یا پھر فروخت شدہ کی قیمت کا متعین فیصد ہو۔ پھر کمپنی کی چیزیں فروخت کرانے کے عوض کمیشن لینا جائز ہوگا۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ کمیشن بھی اس صورت میں جائز ہوگی جب کمپنی کے لیے سامان خود فروخت کرے گا،اگر کسی دوسرے شخص کو کمپنی کا نمائندہ بنایا اور اس نئے نمائندہ کی محنت سے سامان فروخت ہوا تو اس کا کمیشن سائل کے لیے جائز نہیں ہوگا۔
نوٹ:آج کل اس نوعیت کی اکثر کمپنیاں بظاہر مصنوعات کی فروخت کے نام سے کام کرتی ہے،لیکن ان کا اصل مقصد تجارتی سرگرمی کے بجائےزیادہ سےزیادہ ممبران کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنا اور اسی بنیاد پر نظام کوآگے بڑھانا ہوتا ہے، جس سے معاملہ اپنی اصل تجارت سے ہٹ کر صرف ممبر سازی پر مرکوز ہوجاتاہے، لہذا اگر مذکورہ QNETکمپنی کا مقصد بھی خرید و فروخت کے بجائے لوگوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنا اور مزید آگے نمائندہ بنانا ہو، تو ایسی کمپنی یا نیٹ ورک سسٹم میں بطور نمائندہ شامل ہونا یا دوسروں کو شامل کرنا اور اس بنیاد پر کمیشن حاصل کرنا کچھ قباحتوں کی بناپر ناجائز ہے: اس نظام میں حقیقی مصنوعات کی خرید وفروخت نہ ہونے کی بنا پر معاملہ ایسے حق(نیٹ ورک ،ممبر شپ )سے جڑ جاتاہے جو کہ شرعاً مال نہیں ہے، اس نظام میں کمیشن کا تعلق صرف اپنی محنت کے بجائے ماتحت افراد کی محنت اور ان کی شمولیت سے ہوتا ہے، جب کہ شریعت کے اصول کے مطابق دلال یا ایجنٹ اپنی ذاتی محنت پر اجرت کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ دوسروں کی محنت پر ، اس نظام میں ایک شخص کے بعد شامل ہونے والے افراد کی کمائی سے اوپر والوں کو بھی مسلسل نفع ملتا رہتا ہے(یونی ممبر کے ممبر بنانے والے کو کمیشن ملتی ہے)حالانکہ شریعت میں بلامحنت کمائی اور دوسروں کی محنت سے نفع اٹھانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، اور اس میں استحصال (کسی دوسرے شخص کی محنت سے بغیر کسی محنت کے فائدہ اٹھانا )کا پہلو پایا جاتا ہے۔ لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ جب تک معاملہ بالکل واضح نہ ہوجائے تو محض کمپنی والوں کی باتوں پر بھروسہ کرکے ایسی کمپنیوں کے ساتھ شامل نہیں ہونا چاہیے۔
شعب الإيمان میں ہے:
"عن سعيد بن عمير الأنصاري قال: سئل رسول الله صلّى الله عليه وسلّم أيّ الكسب أطيب؟ قال:عمل الرجل بيده، وكلّ بيع مبرور."
(التوكل بالله عز وجل والتسليم لأمره تعالى في كل شيء ،ج:2،ص:84،ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ومنها في البدلين وهو قيام المالية حتى لا ينعقد متى عدمت المالية هكذا في محيط السرخسي."
(کتاب البیوع،الباب الاول فی تعریف البیع،ج:3،ص:2،ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے :
"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف،
(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها."
(كتاب البيوع،مطلب في بيع الجامكية،ج:4،ص:518،ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101478
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن