
ایک تجارتی کمپنی ہے جس کے چھ شرکاء ہیں، جو ہر سال ہر ایک اپنی مالی حیثیت اور کمپنی کے قابلِ زکوۃ اثاثوں میں اپنے حصوں کے بقدر زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ کمپنی نے زکوۃ کے حساب کے لیے ہر سال 19 ربیع الاول کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔ گزشتہ دو سالوں ( اکتوبر 2022ء اور اکتوبر 2023ء) کی زکوۃ درج ذیل صورتحال کی وجہ سے ادا نہیں کی گئی:
کمپنی نے استعمال کے لیے ایک دکان قسطوں پر خریدی جس کی مجموعی قیمت 19 کروڑ روپے مقرر ہوئی۔ اس سلسلے میں مختلف اوقات میں تین معاہدے ہوئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا معاہدہ (20 اکتوبر 2022ء): کل قیمت 19 کروڑ روپے تھی۔
پہلی قسط 50 لاکھ روپے 22 اکتوبر 2022ء کو، اور بقیہ رقوم اپریل و جون 2023ء میں طے ہوئیں، لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا۔
دوسرا معاہدہ (31 دسمبر 2022ء): اس میں ادائیگی کا نیا جدول طے ہوا جس کے تحت 7 کروڑ روپے کی ایک بڑی رقم 31 دسمبر 2022ء کو ادا کی گئی۔ یہ 7 کروڑ روپے کمپنی کے ایک شریک نے اپنی ذاتی دکان کی صورت میں (کمپنی کی طرف سے) ادا کیے، جس کے بدلے کمپنی نے اس شریک کو یہ رقم 3 سال کی اقساط میں واپس کرنے کا معاہدہ کیا۔
تیسرا اور حتمی معاہدہ (23 مئی 2023ء): اس معاہدے کے مطابق دکان کی کل قیمت 18 کروڑ روپے مقرر ہوئی اور ادائیگی کا شیڈول دوبارہ ترتیب دیا گیا (جس میں کیش ادائیگیاں اور شریک کی طرف سے دی گئی 7 کروڑ کی رقم شامل تھی)۔ تمام ادائیگیاں اسی معاہدے کے مطابق ہو رہی ہیں اور شریک کی ذاتی دکان کی وجہ سے جو قرض کمپنی پر آیا تھا وہ 2024ء میں ادا ہوا۔
نوٹ:سال 2022ء کی زکوۃ: 19 ربیع الاول (مطابق 16 اکتوبر 2022ء) کو کمپنی کے قابلِ زکوۃ اثاثوں کی مالیت کم تھی اور دکان کی مد میں واجب الادا قرض کی مالیت زیادہ تھی، اس لیے زکوۃ ادا نہیں کی گئی۔
سال 2023ء کی زکوۃ: 19 ربیع الاول (مطابق 5 اکتوبر 2023ء) کو بھی شرکاء نے زکاۃ کا حساب نہیں کیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1- قرضہ کی موجودگی میں زکوة کا شرعی حکم کیا ہے ؟
2-کیا مذ کو رہ صورت میں پلاٹ کی اقساط واجب الاداء ہونے کے باوجود کمپنی پر زکوۃ واجب ہو گی ؟
3-اگر قرض منہا کرنے کے بعد زکوة کے قابل مال نصاب سے کم رہ جائے تو کیا ایسی صورت میں سال 2022 کی زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں ؟
4-اگر قرض منہا کرنے کے بعد زکوۃ کے قابل مال کا اندازہ کریں اور وہ نصاب سے کم رہ جائے تو کیا ایسی صورت میں سال 2023 کی زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں ؟
5 -اگر قرض منہا کرنے کے بعد زکوۃ کے قابل مال کا اندازہ کریں اور وہ نصاب سے زیادہ ہو جائے تو کیا ایسی صورت میں سال 2023 کی زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں ؟
6- کتنے سالوں کی زکوۃ واجب ہو گی ؟
7 -زکوة کے حساب میں قابل ادائیگی قرض کو کس حد تک منہا کیا جائے گا؟
8-جس سال زکوة ادا نہیں کی گئی ، ان کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟
9- جس شریک نے اپنی ذاتی رقم / دکان کی صورت میں ادائیگی کی ، اس کی زکوۃ کا کیا حکم ہو گا؟
10 مذکورہ صورت میں اگر زکوۃ کے واجب نہ ہونے کی صورت میں پہلے سے زکوۃ کی طے شدہ تاریخ کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ زکوٰۃ ہر اس صاحبِ نصاب شخص پر فرض ہوتی ہے جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال، رقم یا مالِ تجارت وغیرہ موجود ہو، بشرطیکہ اس پر ایسا قرض نہ ہو جو نصاب کو ساقط کر دے۔ اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ مال ہو، لیکن اس پر قرض بھی ہو، تو سال کے اختتام پر سب سے پہلے اپنے کل سرمائے میں سے واجب الادا قرض منہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر باقی مال نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی، ورنہ نہیں۔
اسی طرح مشترکہ تجارت، کمپنی یا فیکٹری وغیرہ کے حصہ داروں پر مجموعی رقم اور مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، بلکہ ہر حصہ دار کی زکوٰۃ اس کے حصے کے مطابق ادا کرنا واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا جس کا حصہ نصاب تک پہنچے گا، اس پر اپنے حصے کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔ اور جس کا حصہ نصاب تک نہیں پہنچتا اور اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے جسے ملا کر نصاب مکمل ہو سکے، تو ایسے حصہ دار پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ تاہم اگر کسی کے پاس شرکت کے حصے کے علاوہ اتنا مال ہے کہ جسے ملا کر نصاب مکمل ہو جاتا ہے، تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، لیکن وہ اپنے حصے کی زکوٰۃ الگ سے نکال کر ادا کرے گا۔
1 تا 7:لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب شرکاء نے استعمال کی غرض سے دکان خریدی اور اس کے نتیجے میں ان پر قسطوں کی صورت میں قرض لازم ہوگیا، تو جب تک یہ قرض باقی ہے، ہر سال کے اختتام پر سب سے پہلے شرکاء کے سرمائے سے اس سال کا قسط اگر ادا نہیں کیا تو قسط کی وہی رقم منہا کی جائے گی۔ اس کے بعد اگر باقی اثاثہ نصاب کے برابر ہو تو زکوٰۃ فرض ہوگی، جیسا کہ اگر سال 2023ء میں قرض منہا کرنے کے بعد نصاب سے زیادہ مال بچتا ہو۔
اور اگر قرض منہا کرنے کے بعد سال کے اختتام پر نصاب سے کم مال باقی رہے، جیسا کہ 2022ء (اور اسی طرح 2023ء میں بھی اگر یہی صورت ہو) تو ایسی حالت میں زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
8:اگر سال گزر جائے اور کوئی شخص صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرے تو چونکہ زکوٰۃ فرض ہے، اس لیے وہ اس کے ذمے باقی رہے گی۔ بلا عذر زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا مکروہ ہے، لہذا تاخیر نہیں کرنی چاہیے، جلد از جلد زکوۃ ادا کر دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
9:جس شریک نے دکان کی خریداری میں حصہ لیا اور اپنی طرف سے رقم ادا کی، اگر اس کی ادا کردہ رقم اس کے حصے سے زائد ہے تو یہ زائد رقم دیگر شرکاء پر قرض شمار ہوگی۔ ایسی صورت میں اس رقم کی زکاۃ اس شریک پر لازم ہوگی ۔
10: زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے قمری سال کا گزرنا شرط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال کے آغاز اور اختتام دونوں وقت صاحبِ نصاب ہونا ضروری ہے۔ اگر سال کے شروع میں تو صاحبِ نصاب ہو لیکن سال کے اختتام پر نصاب باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ یعنی طے شدہ آخری تاریخ پر اگر نصاب موجود نہ ہو تو کوئی نئی ذمہ داری یا کوئی نئی رقم لازم نہیں ہوتی۔اب جب دوبارہ مال آئے گا تو نئے سرے سے سال کا آغاز ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين وأما صفتها فهي فريضة محكمة يكفر جاحدها ويقتل مانعها هكذا في محيط السرخسي وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر، وفي رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت، والأول أصح كذا في التهذيب....
(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز رجل أدى خمسة من المائتين بعد الحول إلى الفقير، أو إلى الوكيل لأجل الزكاة ثم ظهر فيها درهم ستوقة لم تكن تلك الخمسة زكاة لنقصان النصاب، وإذا أراد أن يسترد الخمسة من الفقير ليس له ذلك، وله أن يسترد من الوكيل إن لم يتصدق بها هكذا في فتاوى قاضي خان....
(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل....
(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية. ولو استبدل مال التجارة أو النقدين بجنسها أو بغير جنسها لا ينقطع حكم الحول، ولو استبدل السائمة بجنسها أو بغير جنسها ينقطع حكم الحول كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الزکات،الباب الاول فی تفسیر الزکات،ج:1،ص:170/175/172،دارالفکر)
بدائع الصنائع میں ہے :
"ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا."
(کتاب الزکات،فصل شرائط فرضیۃ الزکات،ج:2،ص:6،دارالکتب العلمیۃ)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.
(قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. "
( کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ج:2،ص:305,ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا تجب) الزكاة عندنا (في نصاب) مشترك (من سائمة) ومال تجارة (وإن صحت الخلطة فيه) باتحاد أسباب الإسامة التسعة التي يجمعها أوص من يشفع وبيانه في شروح المجمع وإن تعدد النصاب تجب إجماعا، ويتراجعان بالحصص، وبيانه في الحاوي، فإن بلغ نصيب أحدهما نصابا زكاه دون الآخر؛ ولو بينه وبين ثمانين رجلا ثمانون شاة لا شيء عليه لأنه مما لا يقسم خلافا للثاني سراج."
(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:304، ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101204
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن