بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر خرید و فروخت کے متعلق شرعی احکام


سوال

میں قسطوں کا کاروبار کرتا ہوں، جیسے موبائل، فریج، اے سی وغیرہ قسطوں پر دیتا ہوں۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ کاروبار جائز ہے؟ اور اگر جائز نہیں تو کس طرح جائز ہوگا؟

  1. اگر کوئی آکر کہے کہ مجھے فلاں کمپنی کا موبائل یا موٹرسائیکل چاہیے، جو فی الحال میرے پاس نہیں لیکن مارکیٹ میں دستیاب ہے، تو کیا میں وہ سامان لاکر دے سکتا ہوں؟

  2. سامان خریدنے سے پہلے اگر میں اسے بتاؤں کہ کیش پر اتنے کی ہے اور قسطوں پر اتنے کی ہوگی  ، اتنی  رقم ایڈوانس ہوگی اور باقی مہینوں میں اتنی قسط ہوگی، اور اس کے ماننے پر مارکیٹ سے سامان خرید کر اسے حوالہ کروں، کیا یہ جائز ہے؟

  3. اگر پارٹی ایڈوانس دے اور میں وہی ایڈوانس مارکیٹ سے سامان خریدنے میں استعمال کروں اور بعد میں بقایا رقم کے ساتھ قسطوں پر دے دوں تو کیا یہ جائز ہے؟

  4. اگر مجھے پتہ ہو کہ کوئی شخص مجھ سے قسطوں پر چیز خریدے گا اور آگے کیش پر بیچ دے گا، تو کیا اس کے ساتھ میرا سودا جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ قسطوں پر خرید و فروخت میں چند شرائط کا لحاظ ضروری ہے: قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو، یہ واضح ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جا رہا ہے یا ادھار، اور عقد کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو۔ ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس پر اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور نہ ہی جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط کی جائے۔ اگر عقد کے وقت یہ شرط رکھی گئی تو پورا معاملہ فاسد ہوجائے گا۔ ان شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خرید و فروخت کرنا جائز ہے۔

1)صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی چیز کا مطالبہ کرے جو فی الحال دکاندار کے پاس موجود نہ ہو لیکن مارکیٹ میں دستیاب ہو، تو دکاندار اس گاہک سےبیع کا وعدہ کر کے اگر مارکیٹ سے وہ چیز خرید کر اپنے قبضے میں لے کر پھر گاہک پر فروخت کرے تو یہ جائز ہوگا۔

2)مارکیٹ سے چیز خرید کر اپنے قبضے میں لے کر پھر خریدار پر نقد یا قسطوں پر فروخت کرنا جائز ہے، قسطوں کی صورت میں ایک ہی رقم کا ابتدا میں متعین کرنا لازم ہوگا،جیساکہ اوپر وضاحت کی گئی ہے۔

2)نیز اگر دکاندار خریدار سے  حتمی بیع کیے بغیر خریدار سے ایڈوانس رقم لے اور اسی رقم کو استعمال کرکے مارکیٹ سے سامان خرید لے ، بعد ازاں وہ سامان گاہک پر فروخت کرے تو یہ بھی شرعاً درست ہے۔

4)اگر خریدار، دکاندار سے کوئی چیز قسطوں میں خرید لیتا ہے تو خریدار اس چیز مالک بن جاتا ہے ، اب خریدار کے لیے آگے کسی اور کو وہ چیز نقد رقم پر بیچنا جائز ہے ۔ البتہ آج کل اس کی جو صورت رائج ہے کہ کسی کو قرض کی ضرورت ہو اور وہ قرض لینے آئے اور اسے قرض کی جگہ کوئی اور چیز دی جائے اور پھر وہی چیز اس سے دوبارہ خرید لی جائے، یا وہ تیسرے فرد کو بیچے اور تیسرا فرد پھر پہلے فرد کو بیچ دے، یا خریدار سے یہ کہا جائے کہ اس چیز کو فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کر لو اور مقصود وہ چیزخریدنا نہ ہو، بلکہ اضافے کے بدلے قرض کا لین دین مقصود ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’بیعِ عینہ‘‘ کہتے ہیں جو کہ ناجائز ہے اور سود خوری کا ہی ایک راستہ ہے، اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عقد کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے، جیسا کہ ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے کہ جب تک تم بیع عینہ کرتے رہوگے اور جانوروں کی دیکھ بھال میں لگے رہوگے اور زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إذا تبايعتهم العينة، و أخذتم أذناب البقر، و رضيتم بالزرع، و تركتم الجهاد، سلط الله عليكم الذلة، لاينزعه حتي ترجعوا إلی دينكم."

( كتاب البيوع،باب في النهي عن العينة، رقم الحديث:3462)

رد المحتار میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهما وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال - عليه الصلاة والسلام - «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»."

( كتاب البيوع، باب الصرف، 273/5، ط:سعید)

تبیین الحقائق  شرح کنز الدقائق میں ہے:

"لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام"۔

(کتاب البیوع، باب التولیۃ، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:4، ص:79، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح يصبح البيع بتأجيل الثمن وتقسيطه ...... وكما أنه يجوز تأجيل الثمن وتقسيطه حين عقد البيع كذلك يجوز تأجيله وتقسيطه بعد العقد ويصبح الأجل لازما وعلى هذا إذا باع إنسان من آخر مالا على أن يدفع الثمن معجلا ثم أجل البائع الثمن بعد البيع إلى أجل معلوم أصبح التأجيل لازما."

(الکتاب الاول البیوع، الفصل الثانی، المادۃ: 245، ج: 1، ص: 227، ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں