
میرا گاڑیوں کا شو روم ہے، جس میں ہم ادھار پر گاڑی فروخت کرتے ہیں، مثلا ایک سال کے ادھار پر، گاہک کچھ رقم کی ادائیگی بطور ایڈوانس ادا کرتا ہے، مثلا 10 لاکھ میں سے چار لاکھ ایڈوانس اور چھ لاکھ روپے ایک سال کی مدت میں ادا کرنے ہوتے ہیں، اگر اس سال کی مدت کے درمیان مثلاً تین یا چار ماہ بعد گاہک گاڑی واپس لے آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں خریدنا نہیں چاہتا اس صورت میں ہم گاڑی کی کنڈیشن، گاڑی کے استعمال کی مدت اور مارکٹ ویلیو کے حساب سے رقم کی کٹوتی کرتے ہیں، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ اگر یہ صورت جائز نہیں تو اس کے جواز کی کوئی اور صورت ہے؟
مسئلہ کی جو صورت سوال میں نقل کی گئی ہے کہ خریدار گاڑی کی قیمت کی مکمل ادائیگی سے پہلے گاڑی واپس کرتا ہے تو آپ قیمت میں سے کٹوتی کر کے گاڑی واپس لے لیتے ہیں، یہ صورت جائز نہیں ہے، اس کی درست صورت یہ ہے کہ جب گاڑی کا خریدار کسی وجہ سے گاڑی واپس کرنا چاہے تو وہ کسی طرح رقم کی مکمل ادائیگی کر دے، خواہ کسی سے قرض لے کر کرے یا کسی دوسری طرح، پھر جب وہ پہلے سودے کی مکمل ادائیگی کر دے تو آپ خریدار سے گاڑی واپس لے لیں، اس صورت میں آپ جس قیمت پر بھی گاڑی خریدیں گے وہ درست ہو گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول. صورته: باع شيئاً بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا ...
(قوله قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم...
(قوله: وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئاً وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لايجوز."
(كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، ج : 5 ، ص : 73 ، ط : دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101576
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن