بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں کی صورت میں رقم کی واپسی کے وقت زیادہ رقم لینے کا حکم


سوال

 مجھے ایک موبائل خریدنا تھا جس کے لیے میرے پاس آدھی رقم موجود تھی اور بقیہ آدھی رقم (25,000 روپے) کے لیے میں نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا۔ وہ دوست عام طور پر لوگوں کو قسطوں پر موبائل خرید کر دیتا ہے اور اس پر نفع وصول کرتا ہے، چنانچہ اس نے مجھے 25,000 روپے فراہم کیے جس سے میں نے موبائل خرید لیا۔ اب وہ دوست مجھ سے اس رقم کے عوض 4 قسطوں میں کل 29,500 روپے وصول کر رہاہے۔ واضح رہے کہ اس کا یہ کام (قسطوں پر اشیاء فراہم کرنا) معروف ہے اور اسی بنیاد پر میں نے ان سے رابطہ کیا تھا۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا اس طریقے سے اس کا مجھ سے اضافی رقم (4,500 روپے) وصول کرنا شرعا   درست ہے؟ جبکہ موبائل میں نے خود خریدا ہے اور اس نے صرف رقم شامل کی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں موبائل کی خریداری کےلیے جو رقم سائل کے دوست نے فراہم کی ہے،اس کی حیثیت قرض کی ہے،جس پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے،لہذا سائل کے مذکورہ دوست کےلیے 25000 روپے سے زائد رقم وصول کرناحرام ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل ..... (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا»؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض."

( كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض،ج:7،ص:395 ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة. وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به، ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع،باب المرابحة والتولیة،مطلب کل قرض جر نفعاً حرام،ج:5 ص:166 ط: سعید)

فتح القدیر میں ہے:

"‌الديون ‌تقضى بأمثالها فيجب للمديون على صاحب الدين مثل ما لصاحب الدين عليه."

(کتاب الاقرار،فصل فی بیان الاقرار بالنسب،ج:8،ص:401،ط:دارالفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں