
کیا نماز میں "إنھم على رجعه لقادر"کہنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے؟
ادب اور تعظیم کا معنیٰ ملحوظ رکھتے ہوئے مفرد کی جگہ جمع کا صیغہ استعمال ہوتا ہے،لہذا معنیٰ میں واضح تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے نماز ادا ہوگئی،اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"والقاعدة عند المتقدمين أن ما غير المعنى تغييرا يكون اعتقاده كفرا يفسد في جميع ذلك، سواء كان في القرآن أو لا."
(کتاب الصلاۃ،ج1،ص631،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100941
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن