بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ذو الحجة 1447ھ 14 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قیمت فروخت میں فرق ہوتا رہتا ہو تو زکوٰۃ کس حساب سے دی جائے گی؟


سوال

میں 4000 روپے کا سوٹ خریدتا ہوں تو وہ کبھی 4400 روپے کا اورکبھی 4300 کا فروخت ہوتا ہے تو بتائیں کہ زکوٰۃ کس حساب سے ادا  کروں؟

جواب

واضح ہے کہ سال پورا ہونے پر زکوٰۃ دیتے وقت مالِ تجارت کی جو  متوسط قیمت بازار  میں رائج ہے اسی قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی،اور اسی قیمت کو قیمتِ فروخت کہتے ہیں، یعنی زکوٰۃ ادا کرتے وقت مارکیٹ میں آپ کے سوٹ کی قیمت اگر 4300 روپے کی ہے، اور اسی قیمت میں فروخت ہوتا ہے  تو زکوٰۃ اسی 4300 روپے کے حساب سے نکالنا درست ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح.

(قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اهـ.

وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما."

(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، 2/ 285، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144601102186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں