
ہمارے گاؤں میں بہت قدیمی قبرستان ہے، اور فی الحال ہمارے موجودہ قبرستان میں مزید قبروں کی گنجائش نہیں ہے، کیا ہم اس پرانے قبرستان کو جس کی قبریں بھی منہدم ہو چکی ہوں، نشانات بھی ختم ہوگئے ہیں ، اس کو دوبارہ قبرستان کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے گاؤں کے سارے قبرستان بھر چکے ہوں اور کسی قبرستان میں نئی قبر ملنا انتہائی دشوار ہو، یا قبرستان ہو توسہی، لیکن اتنا دور ہو کہ وہاں تک میت کو منتقل کرنا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں مذکورہ قبرستان کی وہ قبریں جو منہدم ہو چکی ہوں اور ان کے نشانات مٹ چکے ہوں یا قبریں اتنی پُرانی ہوچکی ہوں کہ اتنے عرصے میں میت کا جسم ختم ہو کر مٹی بن جاتا ہے اور تجربہ سے بھی سے بات ثابت ہو کہ اتنے عرصے میں میت ختم ہو کر مٹی بن جاتی ہے، تو ایسی صورت میں صرف ان قبروں کو کھود کر اس میں دوسری میت کو دفن کرنے کی اجازت ہے۔
لیکن اس میں بھی اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، کہ اگر قبر کھودتے وقت پُرانی میت کی کچھ ہڈیاں وغیرہ نکل آئیں، تو ان کو ایک طرف رکھ کر درمیان میں مٹی کی آڑ بنا کر پھر اس میں دوسری میت کو دفن کیا جائے۔
نوٹ: وہ مدت جس میں میت کا جسم ختم ہو کر مٹی بن جاتا ہے، علاقے اور موسم کے بدلنے سے مختلف ہوسکتی ہے، اس کے لیے ہر علاقے کے ماہرین اور تجربہ کار لوگ جو مدت بتائیں، اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و لو بلي الميت وصار ترابًا جاز دفن غيره في قبره و زرعه و البناء عليه اهـ."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة: 2/ 233، ط: سعید)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: علماء دین سے راہ نمائی مطلوب ہے، مندرجہ ذیل مسئلہ میں ہمارے ملک میں آبادی کے بے تحاشہ پھیلاؤ اور تیز رفتار اضافہ نے خاص طور پر بڑے شہروں میں رہائش کے معاملہ کو جس حد تک دشوار بنادیا ہے، وہ سب پر عیاں ہے، اس کا قدرتی نتیجہ یہ بھی ہے کہ قبرستانوں کی گنجائشیں بڑھتی ہوئی ضرورتوں کا ساتھ دینے سے عاجز آتی جارہی ہیں، شہری آبادی سے بہت دور دراز جگہوں میں نئے قبرستان بنا بھی لیے جائیں، تو وہاں تک اموات کا حمل و نقل بہت دشوار بلکہ عملاً ناممکن نظر آتا ہے، اس کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قدیم قبرستانوں میں دوبارہ تدفین شروع کی جائے، بشرطیکہ شریعت اسلامیہ اس کی روادار ہو، اس لیے علماء کرام راہ نمائی فرمائیں کہ شرعاً کتنی مدت کے بعد کسی پرانی قبر کو دوبارہ تدفین کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہے؟ جب کہ مبصرین کا عام خیال یہ ہے کہ چالیس سال یا زیادہ سے زیادہ پچاس سال کے عرصہ میں مدفون میت (الا ماشاء اللہ) خاکستر محض ہوجاتی ہے، تو کیا ان مقابر کو جن کی تدفین پر پچاس ساٹھ سال کا عرصہ یقینی طور پر گزر چکا ہو، دوبارہ کھود کر تدفین کے کام میں لایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس معاملہ میں شریعت مقدسہ کی واضح راہ نمائی سے ممنون فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً ۔ بینو توجروا (از دہلی)
الجواب: شامی میں ہے:ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب ............ الي قوله ........... وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ.. الي قوله..قلت فالأولى إناطة الجواز بالبلى إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره، وإن صار الأول ترابا لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة .......................
مذکورہ بالا عبارتوں سے واضح ہوتا ہے کہ راجح قول کے مطابق مردہ جب خاک ہوجائے اور اس کا اثر باقی نہ رہے، تو اس صورت میں دوسرے میت کو اس قبر میں دفن کرنا جائز ہے، خاص کر بڑے شہروں میں جہاں زمین کی قلت ہوتی ہے اور اس سے قبل جب کہ اندازہ یہ ہو کہ میت کا جسم خاک نہ ہوا ہوگا، قصدا و ارادۃ بلا عذر شرعی قبر کھودنا جائز نہ ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب کہ زمین کی قلت ہو، نیا قبرستان آبادی سے بہت دور ملتا ہو اور وہاں تک اموات کا نقل و حمل بہت دشوار ہو، تو مبصرین جتنی مدت کا اندازہ بتائیں اور تجربہ سے بھی ان کی بات کی تصدیق ہوتی ہو، تو اتنی مدت کے بعد پُرانی قبر میں میت دفن کرنا جائز ہے، اگر کبھی ہڈیاں نکلیں، تو پوری احترام کے ساتھ قبر کے ایک جانب رکھ کر مٹی کی آڑ کردی جائے، پختہ قبر بنانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ شرعا بھی ممنوع ہے اور مصلحت کے بھی خلاف ہے۔
(فتاوی رحیمیہ، ج:7، ص:69، 70، 71، ط:دار الاشاعت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101387
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن