
ایک آدمی کو کسی نے مار کر گڑھا کھودا اور دفن کردیا ،دومہینہ کے بعد ورثاء کو وہ ملا تو اس وقت اس کی صرف ہڈیاں رہ گئی تھیں تو کیا اس کا جنازہ ہوگا ؟
واضح رہے کہ اگر کسی میت کو بغیر نماز جنازہ پڑھے دفن کردیا گیاہو ،تو قبر پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے، جب تک میت کے جسم کے پھول،پھٹ جانے کا غالب گمان نہ ہو۔
لہذاصورت مسئولہ میں جب مذکورہ میت ورثاء کو دو مہینے کے بعد ملی ہے اور اُس وقت پھولنے ،پھٹنےکے بعد اُ س کی صرف ہڈیاں باقی رہ گئی تھی تو ایسی صورت میں اُ س پرنماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح."
(كتاب الصلاة،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص: 224،ط:ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو دفن الميت قبل الصلاة أو قبل الغسل فإنه يصلى على قبره إلى ثلاثة أيام، والصحيح أن هذا ليس بتقدير لازم بل يصلى عليه ما لم يعلم أنه قد تمزق، كذا في السراجية."
(کتاب الصلاۃ،الباب الحادي والعشرون في الجنائز،الفصل السادس في القبر والدفن والنقل من مكان إلى آخر،ج:1،ص: 165،ط:دارالفکر بیروت)
فتح القدیر میں ہے:
"(وإن دفن الميت ولم يصل عليهصلي على قبره) لأن النبي عليه الصلاة والسلام صلى على قبر امرأة من الأنصار (ويصلى عليه قبل أن يتفسخ) والمعتبر في معرفة ذلك أكبر الرأي هو الصحيح لاختلاف الحال والزمان والمكان."
(کتاب الصلاۃ،باب الجنائز،فصل في الصلاة على الميت،ج:2،ص: 120،ط:دارالفکربیروت)
کفایت المفتی میں ہے:
"اگر جنازہ پڑھے بغیر دفن کیا ہو تو میت کے پھٹنے سے پہلے قبر پر جنازہ پڑھ سکتے ہیں
(سوال) اگر کوئی میت بغیر نماز جنازہ دفن کی جائے تو کیا نماز جنازہ قبر پر پڑھ سکتے ہیں ؟
(جواب) ہاں اگر بغیر نماز پڑھے دفن کر دیا گیا ہو تو قبر پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے جب تک میت کے پھول پھٹ جانے کا خیال نہ ہو اس وقت تک پڑھ سکتے ہیں مختلف موسموں اور مختلف مقامات میں جسم سالم رہنے کی مدت مختلف ہوگی۔"
(کتاب الجنائز،ج:4،ص:94،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100508
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن