بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قاضی یا جرگہ کا زیادہ سے زیادہ مہرکی مقدار مقرر کرنے کا شرعی حکم


سوال

میرا تعلق جنوبی وزیرستان محسود قبیلہ سے ہے، ہمارے ہاں قبائلی جرگہ سسٹم رائج ہے، یعنی قوم کے ملکان(ذی رائے اشخاص)جمع ہو کر قبائل کو درپیش حالات کے بارے میں غور و فکر کرکے کسی ایک نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں اور جب یہ حضرات کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں، تو ہر قبیلہ اور ہر فرد پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور ہر شخص پر وہ فیصلہ لازم ہوتا ہے، بصورتِ دیگر انکار کرنے والے افراد یا جماعت کو اس انکار کے نتائج(برادری سے نکالے جانے یا کسی اور جرمانے کی صورت میں) بھگتنے پڑتے ہیں یا اگر کوئی زور زبردستی نہ بھی ہو، تو کم از کم کوئی شخص ویسے ہی انکار نہیں کر سکتابلکہ ہر کوئی اس فیصلہ کو اپنے اوپر لازم جانتا ہے۔

اس تمہید کے بعد حالیہ صورتِ حال یہ ہے کہ ایک دومہینے پہلے تمام قبائل کے ملکان نے کراچی میں جمع ہو کر یہ فیصلہ کیاکہ محسود قبائل میں سے کسی بھی خاتون کا حقِ مہر پانچ لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتا، اس فیصلہ کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ہاں خواتین کے مہر بہت زیادہ بڑھ گئے تھے، لیکن خواتین کے مہر سے متعلق اس فیصلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے اور اسی پہلو کا شرعی حکم معلوم کرنا اس سوال کا مقصد ہے، وہ پہلو یہ ہے کہ کچھ رشتے ایسے بھی ہیں، جن کی نسبتیں(منگنی اور حق مہر کی تعیین کی صورت میں)  جرگہ کے مذکورہ فیصلہ سے پہلے طے ہو چکی تھیں، لیکن نکاح اور رخصتی وغیرہ ابھی تک   عمل میں نہیں آئی ہیں، جرگہ والے حضرات کا کہنا ہے کہ ہمارے مذکورہ فیصلہ کا اطلاق اس صورت پر بھی ہوگا، چنانچہ اگر کسی خاتون کا حق مہر جرگہ سے پہلے مثلا :دس لاکھ مقرر تھا، تو اس کو بھی کم کرکے پانچ لاکھ  مقرر کرنا پڑے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ :

1)مذکورہ صورت میں جب باہمی رضامندی سے مہر کی ایک مقدار مقرر ہو چکی تھی اور اب نہ لڑکی اس سے کم مہر پر راضی ہے، اور نہ ہی لڑکی کے اولیاء، تو کیا اس صورت میں شرعا جرگہ کے مذکورہ فیصلہ کو زبردستی لڑکی والوں پر نافذ کرنا درست ہے یا نہیں؟

2)اگر مذکورہ نکاح دس لاکھ روپے مہر پر ہی کیا جائے اور جرگہ کی مخالفت کی جائے، تو کیا شرعا جرگہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ لڑکی کے اولیاء پر کوئی  جرمانہ  لگائے یا ان کو برادری سے ہی نکالے؟

وضاحتیں :

1) واضح رہے کہ جرگہ کا مذکورہ فیصلہ جومہر کی ایک متعین مقدار سے متعلق ہے، خوش آئند بھی ہے، کیوں کہ نکاح (جو ایک مسنون عمل ہے) مہر کی گرانی کی وجہ سے مشکل ہو گیا تھا، حتٰی کہ بیس اور چھبیس لاکھ روپے مہر کا بھی سنا گیا ہے۔

2)اوپر تمہید میں مذکور جرگہ کی مضبوط حیثیت اس وقت تھی، جب ہماری سرزمین پر خانہ جنگی شروع نہیں ہوئی تھی، لیکن جب  سے خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں کے باشندوں نے ملک  کے دوسرے علاقوں کا رخ کیا، اور وہیں رہنے لگے اور ایک اجتماعیت برقرار نہ رہ سکی، تو جرگہ کی حیثیت اب بہت کمزور پڑ چکی ہے، چنانچہ بارہا مشاہدہ میں آیا کہ جرگہ نے کوئی متفقہ فیصلہ کیا، لیکن کچھ مدت کے بعد اس فیصلہ کی مخالفت ہونا شروع ہو گئی اور آخر کار وہ فیصلہ ختم ہوگیا۔

3)یاد رہے کہ ہمارے ہاں جب منگنی ہو جاتی ہے، تو اس کی حیثیت محض ایک وعدے کی نہیں ہوتی، بلکہ ایک بار نسبت طے ہونے کے بعد اس رشتے سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا، اگر کوئی انکار کرے، تو اس سے باہمی تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات معاملہ باہمی قتل و قتال تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

4) منگنی میں جب مہر کی کوئی مقدار طے  ہوتی ہے، تو نکاح میں بھی اسی مقدار کو لکھا جاتا ہے، ہمارے علم میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ منگنی کے وقت کوئی مقدار طے کی گئی اور پھر نکاح کے وقت دوسری مقدار، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  منگنی میں طے شدہ مہر اٹل ہوتا ہے۔

جواب

 واضح رہے کہ  مہر کی کم سے کم مقدار(دس درہم)  شریعت نے مقرر کردی ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ مقدار کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے؛ بشرطیکہ اس مقدار پر فریقین راضی ہوں اور یہ ایسا مسئلہ ہے،جس پر تمام فقہاء متفق ہیں،چنانچہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دورِ خلافت میں زیادہ سے زیادہ مہر کی ایک مقدار (چار سو درہم) مقرر کرنے کا فیصلہ فرمایا، تو ایک عورت نے کھڑے ہو کر یہ اعتراض کیا کہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ  اللہ تعالٰی نے مہر کے لئے قنطار(ڈھیر سارا مال) کا لفظ استعمال فرمایا ہے؟ چنانچہ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات سے رجوع فرمایا، نیز چونکہ یہ تمام فقہاء کرام  کے درمیان متفق علیہ مسئلہ ہے، اس لئے اگر قاضی بھی مہر متعین کرنے کا فیصلہ کردے، تو اس کا فیصلہ بھی نافذ نہیں ہوگا، کیوں کہ فقہاء کا یہ اصول ہے کہ قاضی پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ راجح قول پر ہی فیصلہ کرے اور اگر مرجوح قول کو اختیار کرے گا، تو اس کا فیصلہ (صحیح قول کے مطابق) نافذ نہیں ہوگا، اور زیرِ نظر مسئلہ میں کوئی اختلاف ہے ہی نہیں، تو یہاں بدرجہ اولٰی قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا،  البتہ مہر زیادہ مقرر کرنا کوئی اچھی بات نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو مہر کم کرنے کی ترغیب دیتے تھے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے کی تلقین فرماتے تھے،   اس تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :

1۔مذکورہ جرگہ کو شرعا یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی لازمی حد مقرر کردے؛ کیوں کہ  شریعت میں مہر عورت کا خالص حق ہے، جس میں  کسی بھی شخص، ولی یا جرگہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بالغہ عورت کو اس کے حق (مہر) میں کمی پر مجبور کرے؛ کیوں کہ  مہر میں کمی صرف عورت کی اپنی دلی خوشی اور رضامندی سے ہی معتبر ہوتی ہے، لہذا  اگر نکاح سے پہلے (منگنی یا وعدے کی صورت میں) مہر کی ایک مقدار (مثلاً  :10  لاکھ) طے ہو چکی ہے (جیسا کہ سوال میں تصریح ہے کہ وہاں کا عرف ہی یہی ہے) تو وہ عورت کا حق بن جاتا ہے ،  جسے وہ نکاح کے وقت وصول کرنے یا لکھوانے کی مجاز ہے،كیوں کہ جو چیز عرفا ثابت ہوتی  ہے، وہ شرعا بھی ثابت ہو جاتی ہے،  البتہ چونکہ زیادہ مہر شریعت کی نظر میں کوئی اچھی بات  نہیں، اس لئے جرگہ والے حضرات کو چاہئے کہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت اور ان کے طرزِ عمل  کو اپناتے ہوئے مہر کم رکھنے کی ترغیب دیا کریں، اور اس سلسلے میں لوگوں کی ذہن سازی کریں، لیکن زیادہ مہر کی کوئی متعین مقدار زبردستی نافذ نہ کریں؛ کیوں کہ  زیادہ مہر مقرر کرنا اگرچہ ناپسندیدہ سمجھا گیا، مگر یہ ممنوع نہیں ہے، خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا سے 40 ہزار درہم مہر پر نکاح کیا، اسی طرح حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے بھی زیادہ مہر کی مثالیں منقول ہیں۔

2۔ جرگہ والے حضرات کو شرعا جرمانہ عائد کرنے کا کوئی اختیار  حاصل نہیں ہے، اور جو مہر پہلے سے مقرر ہو چکا ہے، اس کو کم کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ح وحدثني محمد بن أبي عمر المكي، واللفظ له، حدثنا عبد العزيز، عن يزيد، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشاً»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه."

ترجمہ:”حضرت ابوسلمہؒ سے مروی ہےکہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیاکہ رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے بارہ اوقیہ اورنش مہر دیا تھا، پھر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم کو معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: آدھا اوقیہ (یعنی بیس درہم) اس طرح کل مہر پانچ سو درہم ہوا؛ یہی ازواج مطہرات کا مہر تھا۔“

(صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب الصداق، ج: 1 ،ص: 458، ط: قديمي)

مرقاۃالمفاتیح میں ہے:

"(وعن عائشة) رضي الله عنها (قالت: «قال النبي صلى الله عليه وسلم الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة») أي: أفراده وأنواعه (أيسره) أي: أقله أو أسهله، (مؤنة) أي: من المهر والنفقة للدلالة على القناعة التي هي كنز لا ينفد ولا يفنى."

(كتاب النكاح، الفصل الثالث ج :5، ص :2049، ط.دار الفكر)

النتف فی الفتاوٰی میں ہے :

"وأما المهر فإنه لا نهاية لأكثره."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج :1، ص :295، ط :مؤسسة الرسالة )

مقدمہ رد المحتار علی الدر  المختار میں ہے :

"وحاصل ما ذكره الشيخ قاسم في تصحيحه: أنه لا فرق بين المفتي والقاضي إلا أن المفتي مخبر عن الحكم والقاضي ملزم به، وأن الحكم والفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للإجماع. . . وأن الخلاف خاص بالقاضي المجتهد، وأما المقلد فلا ينفذ قضاؤه، بخلاف مذهبه أصلا كما في القنية.

قلت: ولا سيما في زماننا، فإن السلطان ينص في منشوره على نهيه عن القضاء بالأقوال الضعيفة، فكيف بخلاف مذهبه فيكون معزولا بالنسبة لغير المعتمد من مذهبه، فلا ينفذ قضاؤه فيه وينقض كما بسط في قضاء الفتح والبحر والنهر وغيرها. قال في البرهان: وهذا صريح الحق الذي يعض عليه بالنواجذ، نعم أمر الأمير متى صادف فصلا مجتهدا فيه نفذ أمره، كما في سير التتارخانية وشرح السير الكبير فليحفظ."

(ج :1، ص :76، ط :سعید)

تفسیر مظہری میں ہے :

"قِنْطارًا أي مالا كثيرا صداقا أخرج ابن جرير عن أنس عن رسول الله ﷺ أتيتم  إحداهنّ قنطارا قال ألفا ومائتين، ومن هاهنا يظهر أنه لا تقدير لأكثر الصداق وعليه انعقد الإجماع وبهذه الآية استدلت امرأة على جواز المغالات فى المهر حين منع عنها عمر فقال عمر كل أفقه من عمر حتى المخدرات والمستحب إجماعا أن لا يغالى فيه، قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : ألا! لا تغالوا فى صدقات النساء فإنها لو كانت مكرمة فى الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبى الله ﷺ، ما علمت رسول الله ﷺ نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنى عشر أوقية." رواه أحمد وأصحاب السنن الأربعة والدارمي."

(ج :2، ص :51، ط :مكتبة الرشدية)

روح المعانی میں ہے :

"وأخرج أبو يعلى عن مسروق أن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه نهى أن يزاد في الصداق على أربعمائة درهم فاعترضته امرأة من قريش فقالت: أما سمعت ما أنزل الله تعالى وَآتَيْتُمْ إِحْداهُنَّ قِنْطارًا فقال: اللهم غفرا، كل الناس أفقه من عمر ثم رجع فركب المنبر، فقال: إني كنت نهيتكم أن تزيدوا النساء في صدقاتهن على أربعمائة درهم فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب."

(ج :2، ص :453، ط :دار الكتب العلمية )

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے :

"وفي «المحيط»: في المهر حقوق ثلاثة، حق الشرع وهو أن لا يكون أقل من عشرة، وحق الأولياء وهو أن لا يكون أقل من مهر مثلها، وحق المرأة وهو كونه ملكا لها غير أن حق الشرع، وحق الأولياء يعتبر وقت العقد لا في حالة البقاء."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج :5، ص :142، ط :دار الكتب العلمية)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے :

"وإن حطت عن مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح."

(كتاب النکاح، الباب السابع في المهر، ج :1، ص :313، ط :دارالفکر)

المحیط البرہانی میں ہے :

"قال مشايخنا رحمهم الله: وفي عرف ديارنا ليس للمرأة أن تمنع نفسها من زوجها حتى تستوفي جميع المهر؛ لأن في عرفنا؛ البعض مؤجل والبعض معجل والمعجل يسمى دست بيمان والمؤجل يسمى كابين برني والمعروف كالمشروط، فإن بينا مقدار المعجل ومقدار المؤجل فهو على ما بينا، وإن لم يبينا شيئا ننظر إلى المسمى وإلى المرأة إن مثل هذه المرأة كم يكون لها من مثل هذا المسمى معجلا، وكم يكون لها مؤجلا في العرف فنقضي بالعرف."

(کتاب النکاح، الفصل السادس عشر في المهور، ج :3، ص :100، ط :دار الكتب العلمية)

التجرید للقدوری میں ہے :

"ويدل عليه قوله - عليه السلام -: (أدوا العلائق). قيل: يا رسول الله ما العلائق؟ قال: (ما تراضى عليه الأهلون في المهر) فدل على تعلق حقهم به."

(کتاب النکاح، ج :9، ص :4400، ط  :دار السلام)

وفيه ايضاً :

"ولأن عمر ندب الناس إلى ترك المغالاة في المهر بقوله: لا تغلوا في صدقات النساء. وأمرهم أن يقتدوا برسول اللهﷺ."

(كتاب النكاح، ج :9، ص :4395، ط :دار السلام)

تبیین الحقائق میں ہے :

"ألا ترى أن ابن عمر - رضي الله عنهما - تزوج صفية على عشرة آلاف درهم وكان يزوج بناته على عشرة آلاف وتزوج عمر أم كلثوم بنت علي من فاطمة على أربعين ألف درهم . . .روي عن الحسن بن علي أنه تزوج امرأة فساق إليها مائة جارية قيمة كل واحدة منهن ألف درهم، وتزوج ابن عباس شميله على عشرة آلاف درهم وتزوج أنس امرأة على عشرة آلاف درهم ومعلوم أن عادتهم لم تجر بذلك والله أعلم."

(کتاب النکاح، باب باب الأولياء والأكفاء، ج :2، ص :131، دار الكتاب الإسلامي)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے :

”سوال :قوم کے سربر آوردہ لوگوں نے یہ تجویز پاس کی ہے کہ آئندہ سب لوگوں اپنی اولاد کے نکاح25 روپے سے زیادہ کی رقم پر نہ کرنا چاہئے، چنانچہ تمام قوم اس کی پابند ہے، مخالف پر جرمانہ وغیرہ کیا جاتا ہے، تو تعیینِ مہر کا ان لوگوں کو حق ہے یا نہیں؟ صحتِ نکاح میں کوئی خرابی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً و مصلیاً ؛

مہر پچیس روپیہ یا اس سے زائد یا اس سے کم دس درہم تک مقرر کرنا جائز ہے اور بہر صورتِ نکاح صحیح ہو جاتا ہے، کم کی مقدار دس درہم  شریعت کی جانب سے متعین ہے، زیادہ کی مقدار متعین نہیں، کسی اور کو انتہائی مقدار لازمی طور پر متعین کرنے کا حق حاصل نہیں، نہ کسی کی تعیین سے متعین ہو سکتی ہے، البتہ زیادہ مہر مقرر کرنا کچھ فضیلت کی بات نہیں، خصوصاً جب کہ اس کی وسعت بھی نہ ہو ۔“

(کتاب النکاح، باب المہر ، ج :12، ص :37، ط :ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100786

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں