
زید کا نکاح عائشہ سے ہونا تھا، لیکن قاضی نے مجلس میں جب عائشہ کے چچا سے پوچھا کہ لڑکی کا نام کیا ہے؟ تو اس نے کہا اس کا نام ہے فاطمہ، جبکہ فاطمہ عائشہ کی چھوٹی بہن کا نام تھا، جو کہ نابالغہ ہے، اور عائشہ کے رشتہ داروں نے جا کر عائشہ سے ہی قبول کروایا تھا، لیکن مجلس میں جب قاضی نے نکاح پڑھایا تو فاطمہ کے نام سے پڑھایا اس طرح کہا تھا کہ " میں فاطمہ بنت فلاں کا نکاح آپ سے کرواتا ہوں" اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ نکاح درست ہوا ہے یا نہیں؟ اگر درست ہوا ہے تو کس کے ساتھ ہوا ہے؟عائشہ کے ساتھ یا فاطمہ کے ساتھ؟ جبکہ فاطمہ نابالغہ تھی اور اس کا والد اور دادا بھی مجلس میں موجود نہیں تھے، کیونکہ وہ وفات پا چکےہیں۔بس یہ صرف چچا کے نام بتانے کی وجہ سے ہو گیاہے ،اور چچا نے فاطمہ سے نکاح کی اجازت بھی نہیں لی تھی۔
واضح رہےکہ لڑکے کا رشتہ عائشہ ہی سے طے ہوا ہے اور اس نے شادی بھی عائشہ سے کرنی ہے۔
صورت مسئولہ میں عائشہ کے چچا نے جب قاضی صاحب کو عائشہ کی بجائے اس کی چھوٹی بہن فاطمہ کا نام غلطی سے بتا دیا، اور قاضی صاحب نے فاطمہ کے نام کے ساتھ ہی نکاح پڑھا دیا ہے، تو عائشہ کا نام نہ لینے کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوا، یہ نکاح فاطمہ کے ساتھ منعقد ہو گیا ہے، البتہ اسے بلوغت کے بعد اختیار ہو گا کہ وہ اس نکاح کو قائم رکھے یا فسخ کروا دے۔
چوں کہ صورت مسئولہ میں مذکورہ لڑکے کا رشتہ عائشہ کے ساتھ طے ہوا ہے اور اس نے نکاح و شادی بھی اسی سے کرنا ہے، تو وہ فاطمہ کو ایک طلاق دے دے،وہ اس سے بائنہ ہو جائے گی، پھر اس کی بڑی بہن عائشہ سے نکاح کر لے، رخصتی اور خلوت صحیحہ نہ ہونے کی وجہ سے فاطمہ پر عدت بھی لازم نہ ہو گی۔
فتاویٰ شامي ميں ہے:
"غلط وكيلها بالنكاح في اسم ابيها بغير حضور ها لم يصح للجهالة۔۔۔۔(قوله:لم يصح) ۔۔۔ وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها."
(كتاب النكاح، ج:3،ص:26، ط:سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
"رجل له بنت واحدة اسمها فاطمة قال لرجل: زوجت منك ابنتي عائشة ولم تقع الإشارة إلى شخصها ذكر في فتاوى الفضلي أنه لا ينعقد النكاح۔۔۔۔ولو قال: زوجت ابنتي منك ولم يزد على هذا وله بنت واحدة؛ جاز، كذا في المحيط. ولو كان لرجل بنتان كبرى اسمها عائشة وصغرى اسمها فاطمة وأراد أن يزوج الكبرى وعقد باسم فاطمة ينعقد على الصغرى، ولو قال: زوجت ابنتي الكبرى فاطمة لا ينعقد على إحداهما، كذا في الظهيرية."
(کتاب النکاح،الباب الثانی فیما ینعقد ومالا ینعقد الخ،ج:1، ص:270، ط: دارالفکر)
وفیہ ایضًا:
"فإن زوجهما الأب والجد فلا خيار لهما بعد بلوغهما، وإن زوجهما غير الأب والجد فلكل واحد منهما الخيار إذا بلغ إن شاء أقام على النكاح، وإن شاء فسخ وهذا عند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - ويشترط فيه القضاء بخلاف خيار العتق، كذا في الهداية."
(کتاب النکاح،الباب الرابع في الأولياء في النكاح،ج:1، ص:285،ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101051
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن