بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قضائے عمری کی ادائیگی کا طریقہ


سوال

قضائے عمری کی ادائیگی کی پوری تفصیل بتائیں۔

جواب

قضاءِ عمری کا طریقہ یہ ہے کہ قضا نماز کی نیت  میں ضروری ہے کہ جس نماز کی قضا پڑھی جا رہی ہے اس کی مکمل تعیین کی جائے یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، مثلاً  پچھلے جمعہ کے دن کی فجر کی نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، لہٰذا اگر متعینہ طور پر قضا نمازوں کی تعداد اور اوقات کا علم ہو تو متعینہ طور پر نیت کرکے ایک ایک کرکے نماز قضا کرلی جائے۔ البتہ اگر متعینہ طور پر قضا نماز کا دن اور وقت معلوم نہ ہو نے کی وجہ سے اس طرح متعین کرنا مشکل ہو تو اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً جتنی فجر کی نمازیں مجھ سے قضا  ہوئی ہیں ان میں سے پہلی  فجر کی نماز ادا کر رہا ہوں یا مثلًا جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں، اسی طرح بقیہ نمازوں میں بھی نیت کریں ۔ لہٰذا اگر کئی نمازیں قضا ہوں اور ان کی تعداد اور اوقات معلوم نہ ہوں تو اندازہ  کرکے غالب گمان کے مطابق ایک تعداد مقرر کرلیجیے، اور مذکورہ طریقے کے مطابق نمازیں قضا کرنا شروع کردیجیے۔

وضاحت : جو فرض نماز فوت ہوئی ہو اس کو قضا کرتے وقت اتنی ہی رکعتیں قضا کرنی ہوں گی جتنی  فرض یا واجب رکعتیں اس نماز  میں  ہیں، مثلًا  فجر  کی قضا  دو رکعت ، ظہر اور عصر کی چار، چار اور مغرب کی تین رکعتیں ہوں گی، عشاء کی نماز قضا کرتے ہوئے چار فرض اور تین وتر کی قضا کرنی ہوگی، قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی ہوتی ہے۔

مزید تفصیل کے لئے درج ذیل لنک   ملاحظہ کیجیے :

قضاء نمازوں کی ادائیگی کاطريقہ

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين، لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج  :2، ص :76، ط :سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے: 

"سوال: (1863) تین چار سال تک بوجہ بیماری کے ایک شخص کی نمازیں قضا ہوتی رہیں،  لیکن تعداد محفوظ نہ رہی، بعد بیماری کے نمازیں قضا کیں، لیکن ان کی تعداد بھی محفوظ نہ رہی، اب کتنی نمازیں لوٹانی جایئں؟

جواب: ایسی صورت میں اندازہ اور تخمینہ کرکے نمازیں قضا کی جاویں۔ "

(فوت شدہ نمازیں قضا کرنے کا بیان، چند سالوں کی فوت شدہ نمازیں کس طرح قضا کرے؟  ج: 4 ص: 403  ط: مکتبہ دار العلوم دیوبند) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101856

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں