
1) موجودہ دور میں اسلامی ثقافت پروگرام یا اسلامک نشید نائٹ کے نام سے، یا اسلامک کنسرٹ کے عنوان سے بہت سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں، اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
2) مختلف فنکار گروہ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غزل، اسلامی ترانہ یا حمد و نعت پڑھ کر اسلام کی دعوت دیتے ہیں،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
3) وہ غزل، اسلامی ترانہ یا حمد و نعت پڑھ کر اسے یوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہیں، اور اس کے لیے باقاعدہ شوٹنگ کی جاتی ہے (خصوصی طور پر ویڈیو بنائی جاتی ہے)۔ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
4) قوالی کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
5) دف کسے کہتے ہیں؟ موجودہ زمانے کا دف کیا ہے؟ اور اس زمانے میں دف بجانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
6) مشین کے ذریعے آواز کو تبدیل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
7) آخری مسئلہ یہ ہے کہ بَکاش (bKash) یا نَغَد (Nagad) جیسی کمپنیوں میں ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
1. صورتِ مسئولہ میں اسلامی ثقافت پروگرام یا اسلامک نشید نائٹ میں کوئی شرعی برائی نہ ہو تو اس طرح پروگرام کرنا جائزہوگا،اگر کوئی شرعی برائی پائی جاتی ہے،اس کی وضاحت کردی جائے،اس کے بعد جواب دیا جائے گا۔
2.شرعی حدود میں رہتے ہوئے میوزک اور ویڈیو سازی سے بجتے ہوئے، اسلامی نظم،اسلامی ترانہ اور حمد ونعت کے ذریعے دعوت دینا جائز ہے۔
3. ویڈیو بنانے اور اس کو یوٹیوب یا اس کے علاوہ کسی اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا جائز نہیں ہے حرام ہے۔
4.اگر قوالی میں موسیقی وغیرہ نہ ہو اور اس کے اشعار میں شریعت کی تعلیمات کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو ایسے اشعار کی قوالی جائز ہے، لیکن اگر قوالی کے اشعار میں خلافِ شرع باتیں ہوں جیسا کہ فی زمانہ دیکھا جاتا ہے تو ایسی اشعار کی قوالی جائز نہیں ہے۔
5. دف بجانے سے مقصود نکاح کا اعلان و تشہیر کرنا ہوتی ہے ، اس کا ایک طرف بند اور دوسری طرف کھلا ہوتا ہے۔جس پر لکڑی یا کسی چیز سے مار کر زور سے آواز پیدا کی جاتی ہے، جس سے لوگوں کو نکاح کی اطلاع ہوجائے،لہذا نکاح وغیرہ کے موقع پر دف کو دف کی منشأ کے مطابق بجانا شرعا جائز ہے،بشرط یہ ہے کہ ایسا دف ہو جو بالکل سادہ اور تھال نما ہو، جس میں ”گھنگھرو“ (چھن چھن کرنے والے آلات) لگے ہوئے نہ ہوں، لہذا ہمارے معاشرے میں جو چیز دف کے نام سے ہے، جس میں اسٹیل کی چھوٹی چھوٹی پلیٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جس سے ایک خاص قسم کے ساز کی آواز پیدا ہوتی ہے، اس کے استعمال کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔نیز کسی خاص گانے کے انداز میں پیشہ ور لوگوں کی طرح نہ بجایا جائے اور موسیقی کے قواعد کے مطابق نہ بجایا جائے، تاکہ اس سے کیف ومستی پیدا نہ ہو۔اور دف بجانے والی اگر بچیاں ہوں، تو وہ نابالغ چھوٹی بچیاں ہوں اور وہ پیشہ ورانہ طور پرگانے والی نہ ہوں۔ لہذا مذکورہ شرعی پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے نکاح ودیگر خوشی کے موقع پر دف بجانے کی شرعا اجازت ہے۔
6. مشین کے ذریعے کسی کی آواز کس طرح تبدیل کی جائے،اس کی وضاحت کی جائے اس کے بعد جواب دیا جائے گا۔
7. بکاش یا نغد نامی کمپنیوں میں کام کا اصول اور طریقہ کار کیا ہے،اور اس میں کس چیز کا کام ہوتا ہے،اس کی مکمل وضاحت کردی جائے،اس کے بعد جواب دیا جائے گا۔
الاشباہ والنظائر میں ہے:
"لأن الأصل في الأشياء الإباحة."
(القاعدة الثانية، قاعدة: هل الأصل في الأشياء الإباحة، ص: 56، ط: دار الكتب العلمية)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أشد الناس عذابا عند الله المصورون."
(كتاب اللباس، باب التصاوير، الفصل الأول، ج: 2، ص: 1273، ط: المكتب الإسلامي)
لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"المراد أشد الناس استحقاقا للعذاب عنده تعالى هؤلاء لكمال غضبه وسخطه عليهم."
(كتاب اللباس، باب التصاوير، الفصل الأول، ج: 7، ص: 460، ط: دار النوادر)
فتاوی شامی میں ہے:
"قال الشارح: زاد في الجوهرة: وما يفعله متصوفة زماننا حرام لا يجوز القصد والجلوس إليه ومن قبلهم لم يفعل كذلك، وما نقل أنه - عليه الصلاة والسلام - سمع الشعر لم يدل على إباحة الغناء. ويجوز حمله على الشعر المباح المشتمل على الحكمة والوعظ."
(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 349، ط: سعید)
وفيه ايضاً:
"وعن الحسن لا بأس بالدف في العرس ليشتهر. وفي السراجية هذا إذا لم يكن له جلاجل ولم يضرب على هيئة التطرب اهـ."
(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 350، ط: سعید)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"قال الأشرف: فيه دليل على أن السماع وضرب الدف غير محظور لكن في بعض الأحيان. أما الإدمان عليه فمكروه، ومسقط للعدالة، ماح للمروءة. قال ابن الملك: في الحديث دليل على أن ضرب الدف جائز إذا لم يكن له جلاجل، وفي بعض الأحيان، وأن إنشاد الشعر الذي ليس بهجو ولا سب جائز."
(كتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، ج3، ص1065، ط: دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102242
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن