
میرے بھائی ظاہر الرحمن کو پشاور میں گولی لگی اور ان کی شہادت ہو گئی ، فریق مخالف کے ساتھ تقریباً آٹھ ماہ بعد صلح ہوئی اور کل11,500,000(ایک کروڑ 15 لاکھ روپے) وصول ہوئے۔
اس میں سے 3,000,000 ( 30 لاکھ روپے) فریقِ مخالف نے ہمارے خاندان کے خرچ / مرہم/ گھر کے لیے بطور ادائیگی دی تھی، مقامی طور پر مختلف الفاظ میں اسے ”مرہم“ یا ”خرچہ“ کہا جاتا ہے اور اسے گھر کے خرچ کے لیے قرار دیا گیا، باقی 8,500,000 (پچاسی لاکھ روپے) بطورِ دیت عدالتی کاروائی میں وارثین کو دی گئی ۔
ہم سب بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، روز مرہ کے اخراجات (کھانا، علاج وغیرہ) مشترکہ طور پر ہوتے ہیں ۔والد محترم (مرحوم) کی وفات مرحوم بھائی کی وفات سے پہلے ہوئی ہے، والدہ حیات ہیں، وہ بھی ہمارے ساتھ اسی گھر میں رہتی ہیں، ورثاء میں بیوہ، والدہ، دو نابالغ بیٹیاں، چار بھائی(محب الرحمن،مجیب الرحمن، گوہر الرحمن،آفتاب الرحمن) ، ایک سگی بہن اور چار سوتیلی (باپ شریک) بہنیں ہیں۔
بطورِ دیت ملنے والی رقم کی تقسیم عدالت کے سامنے یوں ہوئی:والدہ کو 1,416,700 روپے، بیوہ کو 1,062,500 روپے ، سگی بہن کو 39,400روپے، ہر ایک بھائی کو 78,703 روپے، بقیہ رقم 5,666,400 روپے ( چھپن لاکھ چھیاسٹھ ہزار چارسو روپے) قومی بچت بینک (National Savings) میں ظاہر کی دو بیٹیوں کے نام جمع کرائی گئی ہے؛ تا کہ جب دونوں 18 سال کی ہوجائیں تو یہ رقم ان کے حوالے کردی جائے۔
ابھی عدالت کی جانب سے جو 8,500,000 روپے بطور دیت دیئے گئے تھے ان کی تقسیم تو ہوگئی ہے، سوال گھر کے ان 3,000,000 روپے کے بارے میں ہے جو فریقِ مخالف نے گھر کے لیے بطورِ مر ہم /خرچہ کے طور پر دیے ہیں اور جسے مقامی طور ہمارے گھر والوں نے مشترکہ خرچہ سمجھ کر لیا ہے اوریہی رقم فی الحال گھر میں استعمال کی جارہی ہے ( کھانا، علاج وغیرہ میں) کیا یہ رقم دیت کے مانند سمجھی جائے گی، یعنی کیا اس رقم کی شرعاً تقسیم وہی ہوگی جو عدالتی طور پر دیت کے لیے مقر رکی گئی تھی؟ یا یہ خاندان میں مشترکہ طور پر استعمال کرسکتے ہیں؟ اور اگر گھر میں ان کو مشترکہ طور پر استعمال کر سکتے ہیں تو مرحوم بھائی کے دو یتیم بیٹیوں پر استعمال کے باوجود کیا ان کے لیے اس میں سے کچھ علیحدہ رکھنا ضروری ہے؟ اسی طرح اگر ہم یہ رقم تمام افراد میں تقسیم کرنا چاہیں تو تقسیم کا طریقۂِ کار کیا ہونا چاہیے؟ نیز اس رقم کا بطور گھر کے خرچ اور ہمدردی بنانے کے لیے مجلس صلح میں تحریر شدہ معاہدہ یا بیان ضروری ہے؟ اور اگر ہمیں کچھ رقم گھر میں روز مرہ خرچ کے لیے استعمال کی اجازت ہو تو یہ اجازت کس حد تک ہوگی؟ اور اس کے لیے ایسا کون سا معاہدہ یا تحریر بہتر ہوگی؛ جس کے ذریعے سے آئندہ کسی بھی قسم کے تنازع سے بچا جاسکے؟
نیز مرحوم بھائی کی بیوہ کا ہمارے دوسرے بھائی سے نکاح ہوگیا ہے تو کیا ان کا کسی اور سے نکاح کرنے کے بعد ان کو اپنا حصہ ملے گا؟ مطلب یہ کہ اگر اس کو تقسیم میں حصہ ملتا ہے تو کس حساب سے دیں گے؟
صورتِ مسئولہ میں فریق مخالف کی طرف سے جو تیس لاکھ روپے سائل کے خاندان کو بطورِ خرچ / مرہم/ گھر کے خرچ ملے ہیں یہ بھی سائل کے مقتول بھائی کی دیت کا حصہ ہے جو کہ میراث کے شرعی ضابطہ کے مطابق مقتول کے تمام ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا ضروری ہے۔ابھی تک تمام بالغ ورثاء کی رضامندی سے جتنی رقم گھر میں خرچ ہوئی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نابالغ ورثاء کا مکمل حصہ ان کے حوالہ کرنا ضروری ہے، البتہ بقیہ رقم میراث کے ضابطے کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔
نابالغ بیٹیوں کے حصے میں آنے والی رقم جو قومی بچت بینک میں جمع کرائی گئی ہے تو چونکہ قومی بچت بینک میں جو سرمایہ کاری کی جاتی ہے اس میں شرعی اصولوں کی رعایت نہیں کی جاتی، جو رقم اس مد میں جمع کرائی جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور اس پر جو منافع ملتا ہے وہ سود ہوتا ہے؛ اس لیےاس میں رقم جمع کرانا جائز نہیں ہے، البتہ چونکہ رقم کی مقدار زیادہ ہے تو ضرورت کے تحت قومی بچت بینک کے بجائے نابالغ بیٹیوں کے نام پہ کرنٹ اکاؤنٹ کھول دیا جائے اور اس میں ان کا پیسہ جمع کرادیا جائے، یا ان کے لیے کوئی زمین خرید کر رکھ دی جائے۔
مرحوم کی بیوہ کو مرحوم کے ترکہ میں سے شرعاً اس کا مقررہ حصہ پورا پورا ملے گا، اگرچہ عدت گزرنے کے بعد اس کا کسی دوسری جگہ نکاح ہوچکا ہے۔
بقیہ کل مال کو 216 حصوں میں تقسیم کر کے 27 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 36 حصے مرحوم کی والدہ کو، 72،72 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو، دو،دو حصے مرحوم کے ہر ایک بھائی کو اور ایک حصہ مرحوم کی اکلوتی سگی بہن کو ملے گا۔
تقسیم کی صورت یہ ہے:
میت(سائل کا بھائی):216/24
| بیوہ | والدہ | بیٹی | بیٹی | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی | سگی بہن |
| 4 | 3 | 8 | 8 | 1 | ||||
| 36 | 27 | 72 | 72 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے12.5فیصدمرحوم کی بیوہ کو، 16.66فیصدمرحوم کی والدہ کو، 33.33 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو، 0.92 فیصدمرحوم کے ہر ایک بھائی کو اور 0.46فیصدمرحوم کی اکلوتی سگی بہن کو ملے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا اصطلح القاتل، وأولياء القتيل على مال سقط القصاص، ووجب المال قليلا كان، أو كثيرا، وإن لم يذكروا حالا، ولا مؤجلا فهو حال كذا في الهداية."
(کتاب الجنایات، الباب السابع في الصلح والعفو والشھادۃ فیه، ج:6، ص:20، ط:دار الفکر)
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾." [البقرة:279]
ترجمہ:” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ “(بیان القرآن )
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100461
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن