
میرا دفتر میرے رہائش سے تقریباً 110 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ میری روزانہ کی آمدورفت اسی فاصلے پر ہوتی ہے۔ ہم کمپنی کی ایک آرام دہ گاڑی میں سفر کرتے ہیں اور تقریباً ایک گھنٹے کے اندر دفتر پہنچ جاتے ہیں اور ایک گھنٹے میں واپس بھی آجاتے ہیں۔ میری یہ آمدورفت کیا سفرِ شرعی کے حکم میں آتی ہے یا نہیں؟ کیا مجھے نماز قصر پڑھنی چاہیے؟ اگر میں قصر نہ کروں تو کیا گناہ ہوگا؟ اور روزانہ کے اس سفر کا کیا شرعی حکم ہے؟ براہِ کرم راہنمائی فرما دیں۔
صورت مسئولہ میں سائل کی جس جگہ رہائش ہے،اگر دفتر بھی اسی شہر میں ہے اور رہائش اور دفتر کے درمیان مذکورہ مسافت آرہی ہے، تو سائل مقیم ہی شمار ہوگا ، اور نمازوں میں اتمام کرنا (مکمل نماز پڑھنا) لازم ہوگا، تا ہم دفتر اگر کسی شہر میں ہو، اور سائل کے شہر کی آبادی سے اس کے دفتر والے شہر کی آبادی کی مسافت ہے اگر سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زائد ہو تو سائل راستے میں بھی قصر نماز پڑھے گا اور وہاں جاکر بھی قصر نماز پڑھے گا ۔
المحیط البرہانی میں ہے:
"ويقصر إذا جاوز عمرانات المصر قاصداً مسيرة ثلاثة أيام ولياليها."
(کتاب الصلاۃ، الفصل الثاني والعشرون، ج:2، ص:25، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101056
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن