
1۔ اگر کوئی شخص اپنے گھر سے ١٢٠ کلو میٹر کے سفر کے لیے نکلا،لیکن جس جگہ پر جانا ہے، وہ جگہ١٢٠ کلو میٹر پر ہے وہاں اس شخص کو ٢٠ دن تک قیام کرنا ہے تو کیا وہ شخص اس جگہ پہنچنے سے پہلے اپنے گھر سے اس جگہ تک کے راستے میں قصر کرےگا یا نہیں ؟
2۔ سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ تک سفر ہو ایک بات اور جہاں جانا ہو وہاں چودہ دن یا اس سے کم ٹھہرنا ہو دوسری بات یہ دونوں باتیں جب پائی جائیں گی اس وقت قصر واجب ہے یا دونوں باتوں میں سے اگر پہلی بات(سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ تک سفر کرنا ہو) پائی جائے اس وقت بھی قصر واجب ہوگی یا نہیں؟
1۔ صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص جس شہر یابستی جارہا ہے اگر وہ جگہ اس کے شہر کی حدود سے 48 میل یعنی سوا ستتر کلو میٹر کی مسافت پر ہے تو ایسا شخص جیسے ہی اپنے شہر کی آبادی سے نکلے گا، اس کے لیے قصر کرنا ضروری ہوگا، یہاں تک کہ اس مقام تک پہنچ جائے، جہاں بیس روز قیام کا ارادہ ہو، پس اس شہر یا بستی میں داخل ہوتے ہی اس پر إتمام کرنا لازم ہوگا۔
2۔ اگر کوئی شخص سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ مسافت کے ارادے سے سفر کے لیے نکلے، تو اس پر اپنے شہر کی آبادی سے نکلنے کے بعد چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھنا لازم ہوگا، اور منزل پر اگر پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو تو وہاں بھی مذکورہ شخص مسافر شمار ہوگا اور قصر نماز ہی پڑھے گا۔البتہ اگر مذکورہ مسافت طے کرنے کے بعد پندرہ دن یا اس سے زیادہ عرصہ قیام کی نیت سے کسی مقام پر ٹھہر جائے، تو پھر اس کے لیے اتمام کرنا ضروری ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل بل إلى الزوال."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 2، ص: 121، ط: دار الفكر بيروت)
وفیہ ایضا:
"(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوباً لقول ابن عباس: «إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعاً والمسافر ركعتين»، ولذا عدل المصنف عن قولهم: قصر؛ لأن الركعتين ليستا قصراً حقيقةً عندنا بل هما تمام فرضه والإكمال ليس رخصةً في حقه بل إساءة. قلت: وفي شروح البخاري: أن الصلوات فرضت ليلة الإسراء ركعتين سفراً وحضراً إلا المغرب فلما هاجر عليه الصلاة والسلام واطمأن بالمدينة زيدت إلا الفجر لطول القراءة فيها والمغرب لأنها وتر النهار فلما استقر فرض الرباعية خفف فيها في السفر عند نزول قوله تعالى:{فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة} [النساء: 101] وكان قصرها في السنة الرابعة من الهجرة وبهذا تجتمع الأدلة اهـ كلامهم فليحفظ".
(كتاب الصلاة، باب المسافر،2/ 123، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610100332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن