
اگر کوئی شخص گناہ سے بچنے کے لیے اپنے اوپر سخت قسم عائد کر لے، مثلاً یہ کہے: 'میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں یہ کام نہیں کروں گا، اور اگر کر لیا تو پچاس دن کے روزے رکھوں گا۔' اگر بعد میں غلطی سے وہ کام ہو جائے تو کیا اس پر واقعی پچاس دن کے روزے لازم ہوں گے، یا پھر وہی کفارہ ادا کرنا ہوگا جو شریعت میں مقرر ہے، یعنی تین دن کے روزے؟
صورت ِمسؤلہ میں جس کام کے نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، وہ کام سرزد ہونے کی صورت میں اصل حکم تو یہی ہے کہ قسم کو پورا کرے اور مسلسل یا وقفے سے پچاس دن کے روزے رکھے۔تاہم قسم پوری نہ کرنے کی صورت میں اس کا کفارہ ادا کرنابھی کافی ہوگا،قسم کے کفارہ کی تفصیل یہ ہےکہ ،دس مسکینوں کو صبح و شام دو وقت کا کھانا کھلائے،یا پھر دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا دےدے،اور اگر ان دونوں کاموں کے کرنے کی استطاعت نہ ہو تو پھر قسم کے کفارے کی نیت سے مسلسل تین روزے رکھے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وكفارته) تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين أو كسوتهم بمايستر عامة البدن فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام وإن عجز عنها كلها (وقت الأداء)صام ثلاثة أيام ولاء."
(کتاب الایمان ، ج:3، ص:725، ط: سعید)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث»(والمنعقدة في وجوب الحفظ أربعة أنواع)ونوع يتخير فيه بين البر، والحنث، والحنث خير من البر فيندب فيه إلى الحنث."
(کتاب الایمان ، الباب الاول، ج:2، ص:52، ط: مکتبہ ماجدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101257
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن