بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم کے انعقاد کے لیے الفاظ قسم کا ہونا ضروری ہے


سوال

 میرے ایک ساتھی کی اپنی اہلیہ سے رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے کے بابت تُوتُو میں میں ہوگئی تو شوہر نے اپنی اہلیہ سے کہا "کَہ تَہ زَمانَہ فلانی علاقے تَہ لاڑے نو زَہ بَہ تَانَہ پیدا یَم" یعنی: ”تم مجھ سے فلاں علاقے میں چلی گئی، تو میں تم سے پیدا ہوں گا۔“ مطلب یہ تھا کہ: میں تمہیں اس علاقے میں ہرگز جانے نہیں دوں گا۔ تو کیا ان الفاظ سے قسم منعقد ہوگئی ہے؟

 

جواب

واضح رہے   قسم کھانے والا جب  تک  زبان سے قسم کے الفاظ ادا نہ کرے -مثلا: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں یا صرف قسم کھاتا ہوں کہ  فلاں کام کروں گا یا  نہیں کروں گا۔ تب تک  شرعاً قسم منعقد نہیں ہوتی۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے ساتھی  نے جو یہ جملہ کہا ہے کہ  :”کَہ تَہ زَمانَہ فلانی علاقے تَہ لاڑے نو زَہ بَہ تَانَہ پیدا یَم“ یعنی: ”تم مجھ سے فلاں علاقے میں چلی گئی، تو میں تم سے پیدا ہوں گا۔“مذکورہ جملہ الفاظ قسم پر  مشتمل نہیں ہے، اس لیے  مذکورہ جملہ کے ذریعہ شرعاً  قسم منعقد نہیں ہوئی۔البتہ ایسے الفاظ کہنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے ۔ 

فتاوی شامی :

"وركنها اللفظ المستعمل فيها."

( کتاب الأیمان،704/3، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(و أما ركن اليمين بالله) فذكر اسم الله، أو صفته، و أما ركن اليمين بغيره فذكر شرط صالح، و جزاء صالح، كذا في الكافي."

(كتاب الأيمان، الباب الأول في تفسير الأيمان شرعا وركنها وشرطها وحكمها،51/2، ط:رشيدية)

مجمع الانہر میں ہے:

"و في الشرع (تقوية) الحالف (أحد طرفي الخبر) من الفعل و الترك (بالمقسم به) ... و ركنها اللفظ المستعمل فيها."

(كتاب الأيمان، 539/1، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100943

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں