
جب کوئی مرد یہ قسم کھائے کہ وہ اپنے موبائل پر گندی ویڈیو وغیرہ نہیں دیکھے گا، پھر اس کی قسم ٹوٹ جائے اور وہ کفارہ بھی ادا کر دے (مثلاً تین دن کے روزے رکھ لے)، اس کے بعد وہ دوبارہ قسم کھائے کہ اب نہیں دیکھے گا، پھر دوبارہ قسم ٹوٹ جائے تو کیا اسے دوبارہ کفارہ ادا کرنا ہوگا؟ اور اگر وہ پھر سے قسم اٹھائے تو کیا یہ قسم معتبر ہوگی؟
اگر ایک مرتبہ قسم ٹوٹنے کے بعداس کا کفارہ اداکردیاہو،توپھر دوبارہ قسم کھانے کی صورت میں اگر قسم ٹوٹ گئی (یعنی دوبارہ گندی وڈیو زدیکھ لی) تو دوبارہ کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔واضح رہے کفارہ ادا کرنے کے بعد اگر دوبارہ قسم اٹھائے گا تو شرعا وہ قسم منعقد ہوگی،خلاف ورزی کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا)."
(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج:3،ص:355،ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"و في البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛ ولو قال: عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لايقبل، وبحجة أو عمرة يقبل. وفيه معزياً للأصل: هو يهودي هو نصراني يمينان، وكذا والله والله أو والله والرحمن في الأصح. واتفقوا أن والله والرحمن يمينان، وبلا عطف واحدة."
( کتاب الایمان، ج:3،ص:714،ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100270
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن