بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض پیسوں سے قربانی کا حکم


سوال

قرض کے پیسوں پرقربانی ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

قرض کے  پیسوں   سے خریدی گئی جانور کی قربانی  درست  ہے، چاہے واجب قربانی کرے یا نفلی۔ البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ جس شخص پر قربانی واجب ہے  اور اس کے پاس نقد رقم موجود نہ ہو تو اس پر  قرض لے کر  قربانی کرنا ضروری ہے، اور جس شخص پر قربانی واجب نہیں اس پر قرض لے کر قربانی کرنا ضروری نہیں ہے، بہر حال دونوں صورتوں میں قرض لے کر قربانی کرنے سے  قربانی ادا ہوجائے گی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"وفي التتمة: سئل علي بن أحمد عن رجل دفع لحم الأضحية عن زكاة ماله هل تسقط عنه الأضحية؟ قال: نعم، وسئل الوبري عن هذا فقال: يقع الموقع ولكنه يأثم وسئل علي أيضا لو كان لرجل دين على مقر هل تحل له الزكاة؟ (قال: لا) فقيل له: هل عليه أضحية؟ قال: لا؛ لأن ماله مستقرض لم يصل إليه وسئل أيضا عن رجل له ديون مؤجلة، أو غير مؤجلة على رجل وهو مقر حتى جاء يوم النحر وليس في يده شيء وعليه شراء الأضحية هل عليه أن يستقرض ويشتري أضحية؟فقال: لا، قيل له: هل يجب على رب الدين أن يسأل المديون إذا غلب على ظنه أنه لو سأله أعطاه ثمن الأضحية، وإن كان مؤجلا؟قال: نعم."

(ج:8، ص:203، ط:دار الكتاب الإسلامي) 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قيل لعلي بن أحمد: لو كان لرجل دين على مقر مفلس هل تحل له الزكاة؟ (قال: لا) ، فقيل: وهل عليه الأضحية؟ فقال: لا ما لم يصل إليه، كذا في التتارخانية. له دين حال أو مؤجل على مقر ملي وليس في يده ما يمكنه شراء الأضحية لا يلزمه أن يستقرض فيضحي، ولا يلزمه قيمتها إذا وصل إليه الدين، لكن يلزمه أن يسأل منه ثمن الأضحية إذا غلب على ظنه أنه يدفعه. له مال كثير غائب في يد شريكه أو مضاربه ومعه ما يشتري به الأضحية من الحجرين أو متاع البيت تلزمه الأضحية، كذا في القنية."

(ج:5، ص:307، ط:دار الفكر-بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511102272

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں