بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض پر تکافل کے نام سے اضافی رقم وصول کرنے کا شرعی حکم


سوال

ایک ادارے(اخوت فاؤنڈیشن)کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے، جس کا مکمل طریقۂ کار درج ذیل ہے:

ادارے کا دعویٰ

یہ ادارہ دعویٰ کرتا ہے کہ: وہ بلاسود قرضہ دیتا ہے، سود کو حرام سمجھتا ہے، اور مستحق افراد کو کاروبار کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔

 قرضہ لینے کا طریقۂ کار (تفصیل کے ساتھ)

1. قرضہ انفرادی طور پر نہیں بلکہ گروپ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ایک شخص کے ساتھ کم از کم دو مزید افراد شامل ہونا ضروری ہیں (یعنی تین افراد کا گروپ)۔ہر فرد کا قرضہ الگ الگ ہوتا ہے، لیکن گروپ کی بنیاد پر منظوری دی جاتی ہے۔

2. ابتدائی مرحلہ (دفتر میں فارم جمع کرانا)

قرضہ کے لیے درج ذیل چیزیں لی گئیں:

نادرا سے تصدیق شدہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ کی رسید۔دو عدد تازہ تصاویر۔دو عدد شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں۔ضامن (والد یا بھائی) کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں۔500 روپے نقد وصولی 

اس مرحلے میں فارم پر کیا گیا، جس پر:تینوں گروپ ممبران کے دستخط اور انگوٹھے لیے گئے۔

3. گھر کا سروے (دوسرا مرحلہ)

ادارے کے نمائندے گھر آئے اور سوالات کیے:شادی شدہ یا غیر شادی شدہ۔بچوں کی تعداد۔مشترکہ یا الگ رہائشی۔گھر ذاتی یا کرایہ کا؟

اس کے بعد کہا گیا کہ:اگلے مرحلے میں دوبارہ دفتر بلایا جائے گا۔

4. دفتر میں دوبارہ حاضری (تیسرا مرحلہ)

تینوں ممبران اور ان کے ضامنین کو دفتر بلایا گیا۔سب سے دستخط اور انگوٹھے لیے گئے۔

ادارے نے کہا:

اگر کسی ممبر میں خرابی ہو اور آپ نے چھپایا تو آپ گناہ گار ہوں گے۔

آئندہ ایک اور بار بلایا جائے گا اور یہ میٹنگ آپ کی یعنی اس گروپ ممبران کے محلہ کی مسجد میں ہوگی۔اور اس بار پھر ایک مرتبہ 500 روپے مزید دینے ہوں گے۔

وضاحت:

ادارے نے بتایا کہ:

یہ لی گئی رقم تکافل کے لیے ہے۔اگر قرضہ کے دوران کوئی ممبر فوت ہو جائے تواس کا باقی پورا قرضہ معاف کر دیا جائے گا، اور مزید یہ کہ اس کے گھر والوں کو کفن دفن کے لیے ہماری طرف سے تعاون کی صورت میں 5000 روپے دیے جائیں گے۔

5. ماہانہ ادائیگی اور تعاون

قرضہ: 50,000 روپے

ماہانہ قسط: 3400 روپے

آخری قسط: 1000 روپے

یعنی پورے پچاس ہزار وصولی  ہی ہوگی 

اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ:

ہر ماہ قسط کے ساتھ اضافی رقم بطور “تعاون” دینا ہو گی، اگرچہ کہا گیا کہ یہ لازمی نہیں، لیکن ترغیب دی جاتی ہے ہر ایک ممبر کو اس تعاون سے دوسرے لوگوں کو قرضہ دیا جاتا ہے۔

جب سوال کیا گیا کہ:

اگر یہ تعاون لازمی یا مستقل ہو تو کیا یہ سود کے مشابہ نہیں؟

تو جواب دیا گیا:

یہ آپ کی مرضی ہے، ہم تو تعاون کی ترغیب دیتے ہیں۔

6. آخری مرحلہ (مسجد میں میٹنگ)

علاقے کی مسجد میں تمام قرضہ لینے والوں کو بلایا گیا۔ادارے کے سینئر مینیجر نے فارم کی تفصیل پڑھی، قرضہ کے مقصد پر سوالات کیے، سود کی حرمت پر  بطورِ وعید آیات و احادیث سنائیں۔پھر اعلان کیا گیا:

قرضہ پچاس ہزار روپے منظور ہوا ہے۔ایک روپیہ بھی زائد نہیں لیا جائے گا۔

جیسا کہ کہا تھا پانچ سو  روپے دوبارہ دینے ہوں گے تو تکافل کے لیے 500 روپے دوبارہ جمع کرائے گئے۔

ایک بار دستخط مکمل ہونے کے بعد کہا گیا:

الائیڈ بینک سے SMS آئے گا،

وہاں جا کر رقم وصول کی جائے پورے پچاس ہزار نہ کم نہ زیادہ۔

مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں درج ذیل امور کی شرعی حیثیت مطلوب ہے:

1. کیا اس طریقے سے دیا جانے والا قرضہ حقیقتاً قرضِ حسنہ کہلاتا ہے؟

2. قرضہ کے ساتھ کچھ رقم تکافل کے نام پر لینا۔قرضہ معاف کرنے اور کفن دفن کی رقم دینے کی شرط لگاناشرعاً درست ہے یا نہیں؟

3. ماہانہ قسط کے ساتھ “تعاون” کی ترغیب مسلسل کرتے ہیں اس طرح سنا ہے تو کیا یہ قرض پر نفع کے حکم میں آئے گی؟

4-گروپ کی صورت میں قرضہ دینا اور ایک دوسرے کی اخلاقی/معاشرتی ذمہ داری ڈالنا شرعاً کس درجے میں آتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ادارے (اخوت فاؤنڈیشن) کے طریقۂ کار میں درج ذیل شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں، جن کی بنا پر یہ نظام قرضِ حسنہ کے معیار پر نہیں اترتا:

1- قرض دینے کے ساتھ تکافل یا کسی بھی عنوان سے اضافی رقم لینا، یا قرض لینے والے کو اس تکافل پر آمادہ کرنا، اسی طرح ادارے کا از خود ممبر کو زیادہ رقم کی واپسی کی ترغیب دینا، یہ قرض پر نفع کے حکم میں آتا ہے، جب کہ شرعاً قرض پر کسی بھی قسم کا نفع لینا جائز نہیں۔

2- سوال میں ذکر کردہ تکافل سود اور قمار کا مرکب و مجموعہ (کیونکہ اس دوران اگر ممبر کا انتقال ہو جاتا ہے تو اسے زائد رقم واپس کی جاتی ہے، جو کہ سود ہے، اور اگر تکافل معاہدے کے دوران انتقال نہیں کرتا تو اس کا سرمایہ ڈوب جاتا ہے، جو کہ قمار ہے)، ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔ اس سے خود بچنا واجب ہے، چہ جائیکہ ممبر کو اس تکافل پر آمادہ کیا جائے۔

3- قرض کی رقم بینک کے ذریعے وصول کروانا، اگر اس سے کسی سودی نظام میں شامل ہونا لازم ہو، تو یہ مزید قباحت ہے۔

لہذا ان قباحتوں کے ہوتے ہوئے اس قرضہ کو قرضہ حسنہ نہیں کہا جاسکتا، بلکہ یہ اس طریقے پر قرض کا لینا دینا ناجائز اور حرام ہے، اس سے بچنا واجب ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرة: 275)"

”اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کر دیا ہے۔“ (بیان القرآن)

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ(النساء: 29)"

”اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ ۔“(بیان القرآن)

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(المائدة: 90)"

” اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں ہیں ۔ شیطانی کام ہیں ۔ سوان سے بالکل الگ رہوتا کہ تم کو فلاح ہو۔“(بیان القرآن)

كنز  العمال ميں ہے:

"لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

(ترجمہ) کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر  حلال نہیں“۔

(حرف الهمزة، ‌‌الكتاب الأول من حرف الهمزة، ‌‌الباب الأول، ‌‌الفصل الرابع، الفرع الثاني،1/ 92، ط:مؤسسة الرسالة)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".

(4/483، کتاب البیوع  والأقضیة، ط: مکتبة رشد، ریاض)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال:  لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم  سواء."

(کتاب البیوع، ‌‌باب لعن آكل الربا ومؤكله، 50/5، ط:دار الطباعة العامرة)

”ترجمہ:حضرت جابررضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کےرسول ﷺ نےسودکھانےوالے، کھلانےوالے، سودی معاملہ(ایگریمنٹ)لکھنےوالےاوراس پرگواہ بننےوالےپرلعنت فرمائی، اورآپ ﷺ نےیہ بھی فرمایاکہ یہ سب گناہ میں برابرہیں۔“

فتح القدیرمیں ہے:

"لأنه صلى الله عليه وسلم نهى عن قرض جر نفعا، رواه الحارث بن أبي أسامة في مسنده عن حفص بن حمزة، أنبأنا سوار بن مصعب عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا فهو ربا."

(كتاب الحوالة، 250/7، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707100760

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں