بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض لیتے ہوئے مہنگائی کی وجہ سے قرض پر اضافی رقم لینا


سوال

ہمارے علاقے میں یہ بات معروف اور مشہور ہے کہ شادی کے موقع پر دلہے کے دوست اسے ایک مخصوص رقم بطور قرض دیتے ہیں، اس شرط کے ساتھ کہ دلہا بعد میں یہ قرض واپس کرے گا۔ مہنگائی کی وجہ سے اس قرض کی قدر کو گوشت کی قیمت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ تو کیا جب یہ قرض واپس کیا جائے گا تو اس کی مقدار مختلف ہوگی؟ مثلاً اگر پہلے دوست نے 500 دینار دیے تھے، تو کیا دوسرا دوست اسے 550 دینار واپس کرے گا قیمت بڑھنے کی وجہ سے؟ کیا یہ سود (ربا) میں شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ  کی رو سے قرض جتنا دیا جائے اتنا ہی لیا جائے ، اگر کسی نے قرض دیتے ہوئے  زیادتی کی شرط لگائی تو یہ زیادتی سود کہلائے گی، البتہ اگر کوئی قرض دیتے ہوئے زیادتی کی شرط نہ لگائے، اور بعد میں مقروض ادائیگی کے وقت حسنِ قضاء کے طور پر کچھ زیادہ دیدے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسا کرنا مستحب ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قرض کو گوشت کی قیمت کے ساتھ خاص کر کے دینا  پھر گوشت مہنگا ہونے کی وجہ سے زیادتی وصول کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ جتنا قرض دیا جائے اس قدر ہی وصول  کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة فصل فی القرض، ج: 5، ص: 166، ط: سعید)

مسلم شريف ميں هے:

''عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكراً، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خياراً رباعياً، فقال: «أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاءً»''.

(كتاب البيوع، باب من استسلف شيئّا فقضى خيرا منه وخيركم أحسنكم قضاء، ج: 5، ص: 54، ط: دار الطباعة العامرة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100908

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں