
زید نے بکر کو قرضہ دیا، پھر کچھ عرصے بعد ثواب کی نیت سے زید نے بکر یعنی مقروض كو یا کسی اور کو بتائے بغیر اپنے ہی دل میں معاف کیا، تو اب اگر یعنی مقروض قرض واپس کرے تو کیا اس کا لینا صحیح ہوگا یا نہیں؟ یا زید کا بکر سے قرضہ مانگنا درست ہے؟ جبکہ بکر کو معلوم نہیں کہ زید نے قرض معاف کر دیا۔
اگر کسی شخص نے محض اپنے دل میں یہ سوچا ہو کہ میں اپنے مقروض کو قرض معاف کر دیتا ہوں، زبان سے یا کسی سے نہیں کہا ہو کہ میں نے فلاں کا قرضہ معاف کر دیا تو محض دل کا ارادہ کرنا قرض کے معاف ہونے کے لیے کافی نہیں ہوگا، اور قرض معاف بھی نہیں ہوگا، کیوں کہ دل کا ارادہ نیت کہلاتا ہے، گویا اس نے نیت کی تھی کہ قرض معاف کر دیتا ہوں، اب اگر وہ اپنے مقروض سے رقم واپس لینا چاہتا ہے تو لے سکتا ہے، مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔
الموسوعۃ الفقہيۃ الكويتيۃ میں ہے:
"أركان الإبراء ... وركنه عند الحنفية هو الصيغة فقط."
(الابراء ، جلد : 1 ، صفحه : 149 ، طبع : دار السلاسل)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسًا واستحسانًا ...
هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي".
(الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين، ج:4، ص:384، ط:مكتبه رشيديه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101065
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن