بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟


سوال

میرے والد صاحب نے اپنے بھائی (یعنی میرے چچا) سے کچھ رقم قرض کے طور پر لی تھی۔ جب میرے والد صاحب اسپتال میں شدید بیماری کی حالت میں داخل تھے، تو میرے چچا نے ہم تمام بہن بھائیوں اور ہماری والدہ سے کہا کہ: ”میں نے اپنے بھائی کا قرض معاف کر دیا ہے۔“ اب والد صاحب کے انتقال کو ایک سال گزر چکا ہے، لیکن چچا اب کہہ رہے ہیں کہ: ”جو رقم تمہارے والد کو قرض دی تھی، وہ واپس کرو۔“

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک بار قرض معاف کرنے کے بعد دوبارہ اس کا مطالبہ کرنا درست ہے؟ اور کیا اب اس قرض کا گناہ ہمارے والد کے ذمہ ہوگا یا وہ قرض شرعاً معاف ہو چکا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی سائل کے چچا نے سائل کے والدِ مرحوم کو دیا گیا قرض معاف کر دیا تھا، تو معافی کے بعد شرعاً وہ قرض ساقط ہوکر سائل کے والد کا ذمہ بری ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب سائل کے چچا کے لیے اس رقم کا دوبارہ مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المادة 51) :الساقط لا يعود.يعني إذا أسقط شخص حقا من الحقوق التي يجوز له إسقاطها يسقط ذلك الحق وبعد إسقاطه لا يعود. أما الحق الذي لا يقبل الإسقاط بإسقاط صاحبه له.مثال: لو كان لشخص على آخر دين فأسقطه عن المدين، ثم بدا له رأي فندم على إسقاطه الدين عن ذلك الرجل، فلأنه أسقط الدين، وهو من الحقوق التي يحق له أن يسقطها، فلا يجوز له أن يرجع إلى المدين ويطالبه بالدين؛ لأن ذمته برئت من الدين بإسقاط الدائن حقه فيه."

(المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، رقم المادة:51، ج:1، ص:54، ط:دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں