
میں نے اپنے بیٹے کو ایک ماہ کے وعدے پر چھ لاکھ روپے ادھار دیے تھے، اور بیٹے نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک ماہ میں گاڑی بیچ کر یہ رقم واپس کر دے گا۔ اب سات ماہ کے بعد اس نے گاڑی بیچی ہے اور رقم واپس کرتے وقت اپنی خوشی سے مجھے (باپ کو) اصل رقم کے علاوہ مزید بیس ہزار روپے دیے ہیں۔
کیا یہ بیس ہزار روپے باپ کے لیے سود کے زمرے میں آئیں گے؟ جبکہ پہلے سے اصل رقم سے اوپر کچھ بھی لینے کا کوئی معاہدہ یا وعدہ نہیں ہوا تھا، اور بیٹے نے یہ پیسے بالکل اپنی خوشی سے دیے ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعتا بغیر کسی پیشگی معاہدہ کے بیٹا اپنی خوشی سے سائل (والد )کو قرض کی ادائیگی کے ساتھ بیس ہزار روپے اضافی دے رہا ہے ،تو سائل کے لیے یہ رقم لینا جائز ہے ۔
صحيح مسلم میں ہے :
'' عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكراً، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خياراً رباعياً، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاءً''.
(كتاب البيوع، باب من استسلف شيئّا فقضى خيرا منه،ج:5،ص:54،ط: دار الطباعة العامرة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101089
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن