
بکر نے زید کو تین لاکھ روپے بطورِ قرض دیے۔ سال گزرنے پر بکر نے اپنی کل رقم بشمول زید کو دیے گئے قرض کے، زکوٰۃ ادا کر دی۔ اب بکر، زید سے تین لاکھ روپے کے اصل قرض کے ساتھ ساتھ 7,500 روپے کی اضافی رقم کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ بکر کا موقف یہ ہے کہ چونکہ اس رقم سے نفع زید نے اٹھایا ہے، لہذا اس رقم (تین لاکھ) کی مد میں بننے والی زکوٰۃ بھی زید ہی ادا کرے۔
از روئے شریعت، بکر کا زید سے زکوٰۃ کی رقم کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟
قرض دی گئی رقم کی زکات اس کے مالک، یعنی قرض دینے والے پر ہی لازم ہوتی ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بکر کا زید (قرض دار) سے اپنی ادا شدہ زکوٰۃ کی رقم کا مطالبہ نہ صرف ناجائز ہے بلکہ یہ "قرض پر نفع" کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ صریح سود ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو كان الدين على مقر مليء۔۔۔(فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى)."
(كتاب الزکات، ج:2، ص:267، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.
(قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ".
(کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال،ج:2، ص:305، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102235
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن