بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی میں تاخیر، منافع کا مطالبہ اور وعدہ خلافی کا شرعی حکم


سوال

میرے بہنوئی نے  تقریباًسن 1992ء میں میرے والد صاحب سے ایک مکان خریدنے کے لیے کچھ رقم بطور قرض مانگی۔ انہوں نے اس وقت کہا کہ میرے پاس فی الحال پیسے نہیں ہیں، بعد میں واپس کر دوں گا۔ چنانچہ والد صاحب نےان کو  ساڑھے سات لاکھ روپے بطور قرض دے دیے۔

اس رقم سے بہنوئی صاحب نے مکان خریدا، پھر کچھ عرصے بعد وہ مکان تقریباً 87 لاکھ روپے میں فروخت کیا، اور اس رقم سے دو گاڑیاں خریدیں، جن کی قیمت اور حیثیت وقت کے ساتھ مزید بڑھ گئی۔وہ والد صاحب سے لیے گئے پیسوں کا خود بھی اقرار کرتے ہیں، لیکن مسلسل ٹال مٹول اور تاخیر کرتے آ رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ:

  1. شرعاً اس طویل تاخیر اور عدم ادائیگی کا کیا حکم ہے؟

  2. چونکہ انہوں نے اس قرض کی رقم سے مکان خریدا، اسے بیچا، منافع حاصل کیا اور کاروبار میں وسعت لائی—تو کیا ہم (والد صاحب کے وارثین) صرف اصل قرض یعنی ساڑھے سات لاکھ روپے کے حق دار ہیں، یا اس رقم سے حاصل شدہ منافع اور ترقی میں بھی ہمارا شرعی حق بنتا ہے؟

اسی طرح ایک دوسرا معاملہ بھی ہے:

ہمارے والد صاحب کا 2018 میں انتقال ہوا اور بہنوئی  نے سن 2008ء میں مجھ سے کہا تھا کہ: "تم ڈرائیونگ لائسنس بنوا لو، میں تمہیں گاڑی دلوا دوں گا۔" چنانچہ میں نے ان کی بات پر عمل کرتے ہوئے میں نے  لائسنس بنوایا۔ بعد میں انہوں نے فرمایا کہ ہمارا حج کا ارادہ بن گیا ہے، واپسی کے بعد اس پر غور کریں گے۔ لیکن واپسی کے بعد بھی وہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔

اب سوال یہ ہے کہ:
شرعاً بہنوئی  کے اس وعدے کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں، اگرچہ بہنوئی نے قرض کی رقم کی واپسی میں بہت زیادہ تاخیر کی اور مستقل ٹال مٹول سے کام لیا، جو شرعاً گناہ اور ظلم کے زمرے میں آتا ہے، لیکن محض تاخیر کی بنیاد پر اصل قرض سے زائد رقم کا مطالبہ کرنا یا اس کا لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لہٰذا آپ ورثاء کا شرعی حق صرف ساڑھے سات لاکھ روپےمیں  ہے، اس سے زائد رقم کا مطالبہ کرنا سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔

2- اسی طرح، جب بہنوئی نے  گاڑی دلانے کا وعدہ کیا تھا، تو دیانۃً (اخلاقی  لحاظ سے) ان پر لازم تھا کہ وہ آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرتے۔ بلا عذر وعدہ پورا نہ کرنا شرعاً گناہے،انہیں چاہیے کہ اگر وہ سائل کو گاڑی  دلانے کی استطاعت رکھتے ہیں تو سائل کو حسب وعدہ گاڑی دلائیں ،لیکن اس کے باوجود آپ ان سے زبردستی گاڑی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔  

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا (الإسراء:34) 

ترجمہ:" اور عہد ( مشروع) کو پورا کیا کرو، بے شک ( ایسے ) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔"

فائدہ:" عہد میں تمام احکامِ الہی اور تمام عقود جو فیما بین العباد ہیں داخل ہوگئے ،چنانچہ  کبیر میں ہے:"كل عقد تقدم لأجل توثيق الأمر و توكيده فهو عهد." اور خازن میں ایسی تفسیر کی ہے کہ وعدہ کو بھی شامل ہے وہ یہ ہے :" قيل أراد بالعهد ما يلتزمه الإنسان علي نفسه ."،لیکن وعدہ کا وجوب دیانۃً ہوگا قضاءً نہیں او رمشروع کی قید سے غیر مشروع نکل گئے اور نیز وجوب وفائے وعدہ میں دوسرے دلائل سے عدمِ عذر کی بھی قید ہے اور عذر میں وجوب ساقط ہے۔"( بیان القرآن )

مشکات شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: آية ‌المنافق ثلاث. زاد مسلم:وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم ثم اتفقا: إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا اؤتمن خان."

(كتاب الاِيمان، الفصل الاول، ج:1، ص:23، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ سے روایت ہے ،فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنےارشادفرمایاکہ منافق کی تین علامات ہیں ،اس کے بعدامام مسلم ؒنے اپنی ذکرکردہ روایت میں اتنااضافہ کیاہے”اگرچہ وہ نماز کاپابندہو،روزے رکھےاورمسلمان ہونے کادعوی کرے“اس پر امام بخاریؒ اورامام مسلم ؒدونوں متفق ہیں،وہ تین علامات یہ ہیں(1)جب بات کرے جھوٹ بولے،(2)جب وعدہ کرے تووعدہ خلافی کرے،(3)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تواس میں خیانت کرے۔"

(مظاہرحق، ج:1، ص:169، ط:دارالاشاعت)

السنن الكبرى للبیہقی میں ہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".

(كتاب البيوع، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، ج:5، ص:573، رقم:10933، ط: دار الكتب)

فتاوى شامي میں ہے:

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن".

"(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به".

(كتاب البيوع، باب المرابحة، فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط:سعيد)

فتاوی  شامی میں ہے:

"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."

(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل،ج:4،ص:320، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101429

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں