
میرا بیٹا تقریبا چارسال سے بیمار ہے،میں جو کماتا ہوں وہ گھر کے خرچہ میں ختم ہوجاتا ہے،میں تقریبا ساڑھے چودہ لاکھ کا مقروض ہوں،اور گھر خرچے سے قرض کی ادائیگی میرے لیے مشکل ہے،اگر کوئی مجھے زکات دے تو کیا میں زکات کا مستحق ہوں جبکہ میں سیدبھی نہیں ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے ذمہ ساڑھے چودہ لاکھ روپے کا قرض ہے اور اس کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں ہے،اور نہ ہی سائل کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر رقم نہیں ہے ، اور نہ ہی اس قدر ضرورت سے زائد سامان ہے کہ جس کی مالیت نصاب کے برابر بنتی ہے تو ایسی صورت میں سائل زکات کا مستحق شمار ہوگا اور اگر کوئی صاحبِ ثروت سائل کی ذکرکردہ صورتِ حال سے مطمئن ہوکر زکوٰۃ کی رقم دینا چاہے تو سائل لے سکتاہے۔
نوٹ:واضح رہے کہ یہ سوال کا جواب ہے نہ کہ حقیقتِ واقعہ کی تصدیق ہےاور نہ ہی سفارش ہے ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
'' لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي.
(كتاب الزکاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط: رشيدية)
وفیہ ایضا:
"(ومنها: الغارم) وهو من لزمه دين، ولايملك نصابًا فاضلًا عن دينه أو كان له مال على الناس لايمكنه أخذه، كذا في التبيين. والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير، كذا في المضمرات".
(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط:رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101322
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن