بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض دی گئی رقم پر زکاۃ کا حکم


سوال

ایک بندہ نے کسی شخص کو تجارت کے لیے قرض پر رقم دی ہے تو اس رقم پر زکاۃ واجب ہے یا نہیں ؟

جواب

قرض پر دی ہوئی رقم کی زکات مالک (یعنی قرض دینے والے) پر لازم ہوتی ہے، جو رقم قرض کے طور پر کسی کو دی ہوئی ہے، اگروہ تنہا یا دوسرے موجود روپوں یا سونا یا چاندی یا مالِ تجارت کے ساتھ  مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زائدہے تو قرض وصول ہونے کےبعد زکاۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، اگرقرض وصول ہونےسے پہلے زکاۃ ادا کرے گا تو زکاۃ ادا ہوجائے گی، وصول ہونے کے بعد گزشتہ ادا کردہ زکاۃ دوبارہ دینا لازم نہیں ہوگی۔ اور اگر قرض وصول ہونے تک زکاۃ ادا نہ کی اور وصولی میں ایک سے زائد سال گزرگئے اور یہ شخص صاحبِ نصاب بھی ہو تو گزشتہ سالوں کی بھی زکاۃ ادا کرنی ہوگی، اس لیے بہتر ہے کہ سال بہ سال زکاۃ کا حساب کرتے وقت قرض دی ہوئی رقم کا بھی حساب کرکے زکاۃ ادا کردے۔

یہ حکم اس صورت میں ہے جب کسی شخص نے دوسرے کو قرض کی رقم قرضِ حسنہ کے طور پردی ہوئی، اور دوسراشخص(یعنی مقروض )چاہے اس سے تجارت کرے یا ذاتی استعمال میں لائے۔

اور اگر سوال سے مقصود یہ ہو کہ کوئی شخص دوسرے کو تجارت کے لیے رقم  بطور قرض فراہم کرے ، اور دوسرے شخص سے اس رقم پر نفع بھی حاصل کرے تو  اس طرح قرض دینا ناجائز ہے؛اس لیے کہ قرض پر نفع لینا حرام ہے۔ اس صورت میں بھی قرض دینے والا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اپنی اصل رقم پر زکاۃ ادا کرے گا۔اور جو نفع لیا ہے اس کا بلانیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.

 (قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ". (2/ 305،  کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ط: سعید) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں