بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1447ھ 09 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی خلافِ جنس میں کرنے کی شرط لگانا


سوال

میرے چچا کے ذمے کسی کا قرض تھا، قرض کی ادائیگی کا وقت جب قریب آگیا، تو میرے چچا کے پاس اس کی ادائیگی کا انتظام نہیں تھا، اس لئے  میرے والد نے میرے چچا کو قرض کی  ادائیگی کے لیے کچھ نقد پیسے دیے اور ایک انگوٹھی دی، جو میری والدہ کی تھی، اُس وقت اس انگوٹھی کی قیمت 18 ہزار روپے تھی ، ہم نے چچا کو  قرض کی ادائیگی کے لیے  اس شرط پر انگوٹھی دی تھی  کہ آئندہ ہمیں اُسی کیرٹ اور اُسی وزن کی انگوٹھی ہی بنا کر دیں گے، چاہے قیمت بڑھ جائے یا کم ہو جائے،  اب اُسی کیرٹ اور اسی وزن کی انگوٹھی کی قیمت  موجودہ وقت میں   52 ہزار ہے، چنانچہ ہم نے ابھی اسی سنار سے  اپنے لیے انگوٹھی بنوائی،  جس سنار کو ہم نے 2023 میں فروخت کی تھی،  اب سوال یہ ہے کہ ہم نے ان سے اسی وزن اور اسی کیرٹ کا سونا بنوا کر جووصول کیا ہے، یہ ہمارے لیے جائز تھا یا ناجائز ؟نیز یہ  سود کے زمرے میں آتا ہے  یا نہیں؟

وضاحت :مذکورہ انگوٹھی  سنار کو ہم نے بیچی تھی اور چچا کو  پیسے دئے تھے، لیکن ہم نے اس شرط پر انگوٹھی فروخت کی تھی کہ آئندہ ہمیں پیسوں کہ بجائے اسی طرح کی انگوٹھی بنا کر دویں گے۔

جواب

واضح رہے کہ قرض کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ جس جنس میں قرض دیا تھا، اسی جنس  میں قرض وصول کی جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے گھر والوں نے انگوٹھی خود فروخت کرکے، اس کی رقم سائل کے چچا کو بطور قرض دی، تو اس صورت میں چچا کے ذمہ اتنی ہی رقم لازم تھی، سائل کے گھر والوں کی طرف سے اسی طرح کی انگوٹھی بنا کر دینے کی شرط لغو ہے،اور ان کا اس طرح انگوٹھی وصول کرنا ناجائز تھا،اس طرح وصولیابی سود کے زمرے میں آتی ہے،   لہذا سائل کے گھر والوں پر لازم ہے کہ  سائل کے چچا کو  اضافی رقم واپس کرکے قرض کے بقدر رقم(اٹھارہ ہزار) ہی وصول کر لیں۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"(وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز ويجبر الدائن على قبول الأجود."

(کتاب البیوع، فصل في القرض، ج :5، ص :165، ط :سعید)

و فیہ ایضاً :

"(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.  "

(کتاب البیوع، فصل في القرض، ج :5، ص :166، ط :سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں