
میرا پیشہ زرگر (سنار) کا ہے، تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس سونا بکنے کے لیے آتا ہے، تو سونے کی مالیت زیادہ ہوتی ہے، جیسے پانچ لاکھ یا دس لاکھ۔ تو ہمارے پاس رقم موجود نہیں ہوتی، ہم کسی سے رقم ادھار لے کر گاہک کو مطلوبہ رقم دے دیتے ہیں، پھر ہم سونا پگھلا کر کے آگے بیچ دیتے ہیں۔ تو اس میں ہمیں نفع ہو یا نقصان ہو یا برابر قیمت نکلے، ہم نے جتنا ادھار لیا وہ اُس کو واپس کر کے اپنی طرف سے خوشی سے تین ہزار، چار ہزار یا پانچ ہزار اضافی دے دیتے ہیں۔ تو کیا ہمارا ایسا کرنا سود میں آئے گا؟ ہم نے طے نہیں کیا، اپنی خوشی سے اضافی رقم دی۔ اس کے بارے میں راہ نمائی فرما دیں!
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل، پیشگی معاہدے کے بغیر، قرض کی ادائیگی کے وقت اپنی خوشی سے کچھ اضافی رقم دے دے، تو یہ شرعاً درست ہے ،بشرطیکہ وہ پیشہ یا بازار (یا مارکیٹ) جس سے سائل وابستہ ہے، وہاں عمومی طور پر قرض کی واپسی پر اضافی رقم دینا یا لینا رائج نہ ہو۔
کیونکہ اگر کسی پیشے یا بازار میں ایسا معمول عام ہو تو اس اضافی رقم کو عرفاً مشروط سمجھا جائے گا، اور ایسی صورت میں یہ اضافی رقم سود کے حکم میں داخل ہو گی۔
شرح مختصر الكرخی میں ہے:
"قال: [وكل قرض جر منفعة فإنه لا يجوز؛ لما روي عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال]: "كل قرض جر منفعة فهو ربا"، ولأن القرض تمليك الشيء بمثله، فإذا جر منفعة صار كأنه استزاد في التمليك الذي يتعلق به الربا، وذلك لا يجوز؛ ولأن المقصود منه التبرع، والمنفعة تخرجه عن موضوعه."
(كتاب الصرف، باب الاستقراض وما يجوز منه وما لا يجوز، ج : 5، ص: 590، ط : دار أسفار)
درر الحكام في شرح مجلۃ الاحكام میں ہے:
"المعروف بين التجار كالمشروط بينهم."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة 45) التعيين بالعرف كالتعيين بالنص، ج : 1، ص : 51، ط : دار الجيل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100292
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن