
گزارش عرض یہ ہے کہ میں نے کئی سال پہلے اپنے بڑے بھائی سے مکان خریدنے کے لیےمبلغ /250000(دولاکھ پچاس ہزار)روپے ادھار کے طور پر لیے تھے، جومیرے ذمہ واجب ہیں۔آج کل کے حساب سے کتنی رقم واجب الاداء ہوگی؟
صورت مسئولہ میں سائل نے کئی سال پہلے جودو لاکھ پچاس ہزارروپے اپنے بھائی سے ادھار کے طور پر لیے تھے،واپسی میں بھی وہی رقم دو لاکھ پچاس ہزار روپے اداکرنا ہوں گے، کمی پیشی جائز نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
" قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها أي إذا دفع الدين إلى دائنه ثبت للمديون بذمة دائنه مثل ما للدائن بذمة المديون"
(كتاب الأيمان:باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام :مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها،ج:3،ص:789،ط:سعید )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100462
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن