بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی رقم کو زکاۃ میں سے منہا کرنے کا حکم


سوال

اگر ہم کسی شخص سے اپنے قرضہ کے رقم کی واپسی کا تقاضہ کر رہے ہو اور وہ کسی صورت میں واپس نہ دے رہا ہو، حالاں کہ معمولات زندگی کے تمام کام کر رہا ہو، اس کی بیٹے قربانی بھی کر رہے ہوں، گاڑی بھی خرید رہے ہوں، اس کا اپنے بچوں کے نام پہ ایک پلاٹ بھی ہو اور وہ کاروبار کرنے کے لیے لوگوں سے مستقل قرضے لے رہا ہو،  مگر میرا قرضہ واپس نہیں کر رہا ہو تو کیا ایسی صورت میں اس کا قرضہ زکوٰۃ کی رقم سے ختم ہو سکتا ہے؟ کیا میں اپنی اس رقم (جس کا اس سے مطالبہ کر رہا ہوں) کے بارے میں اُسے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے تمہاری یہ رقم زکوٰۃ دے کر ختم کر دی، یعنی اس پر جو قرضہ ہے وہ میں زکوٰۃ میں سے شمار کر کے اس کو کہہ دوں کہ تمہارا قرضہ ختم ہو گیا ہے؟ اور کیا یہ بھی اسے بتانا ضروری ہے کہ زکوٰۃ کی مدد سے تمہارا قرضہ ختم ہوا یا ویسے ہی میں نیت کر کے زکوٰۃ کی ادائیگی کے عوض اس کا قرضہ ختم کر دوں؛ تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو تو کیا اس سے میری زکوٰۃ قابل قبول ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی کو پہلے سے دیئے ہوئے قرض کو  زکاۃ  کی مد میں تصور کرلینے یا نیت کرلینے سے زکاۃ  ادا نہیں ہوتی  ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا جس شخص کے ذمہ قرضہ ہے اسے یہ بتانے سے کہ زکوٰۃ کی مد سے تمہار قرضہ ادا ہوگیا یا زکوٰۃ کی ادائیگی کے عوض اس کا قرضہ ختم کرنے کی نیت سے سائل کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر سائل کے مقروض کا قرض اتارنے پر قدرت ہونے کے باوجود قرض اتارنے میں ٹال مٹول کر رہاہو تو یہ ظلم ہے، اور ایسے شخص کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی رُو سے ظالم کہا جائے گا۔

تاہم   اگر سائل کا مقروض   زکوٰۃ کا مستحق(کہ قرض کی مقدار منہا کرنے کے بعد اس کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال (نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت) یا سامان موجود نہیں ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتی ہے) ہے تو   مذکورہ صورت میں سائل کے زکوٰۃ کی ادائیگی اور قرض وصول کرنے کی  جائز صورت  یہ ہے کہ  اسے زکاۃ  کی رقم کا مالک بنائیں اور  جب رقم اس کی ملکیت میں چلی جائے، تو اس سے اپنے قرضہ وصول کر لیں۔اس طرح سائل کی زکاۃ  بھی ادا ہوجائے گی، اور اس شخص کا قرض بھی ادا ہوجائے گا۔

 بدائع الصنائع میں ہے:

"والصحيح أن النية تعتبر في أحد الوقتين إما عند الدفع وإما عند التمييز."

(کتاب الزکاۃ، فصل شرائط رکن الزکاۃ، ج:2، ص:41، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه.

...... الثالثة أداء العين عن الدين كنقد حاضر عن نصاب دين. وفي صورتين لا يجوز:الأولى أداء الدين عن العين كجعله ما في ذمة مديونه زكاة لماله الحاضر.....(قوله وحيلة الجواز) أي فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده أو عن دين له على آخر سيقبض (قوله أن يعطي مديونه إلخ) قال في الأشباه وهو أفضل من غيره أي لأنه يصير وسيلة إلى براءة ذمة المديون."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:271، ط:سعید)

مسلم شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة؛إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال (‌مطل ‌الغني ظلم، إذا أتبع أحدكم على ملء فليتبع)."

(کتاب المساقاۃ،باب تحریم مطل الغنی،ج3،ص1197،ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

'' لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً."

(کتاب الزکاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط:رشیدیة) 

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101610

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں