بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی رقم پر زکات کا حکم


سوال

میں نے اپنے بھائی کو 30 لاکھ روپے دیے تھے تاکہ ہم دونوں آدھا آدھا حصہ ڈال کر دبئی میں ٹیکسی کے لیے گاڑی خریدیں۔ دس ماہ بعد گاڑی کمپنی کو نقصان میں واپس کر دی گئی، بھائی نے کہا کہ سارا پیسہ نقصان میں چلا گیا ہے،اس لیے میں آپ کو 15 لاکھ روپے دوں گا، اس بات کو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے، مگر وہ کوئی تاریخ نہیں بتا رہا کہ رقم کب دے گا۔

اب یہ پیسے بھائی پر قرض ہیں تو کیا مجھ پران 15 لاکھ روپے  کی  زکاۃ لازم ہے؟ کیا زکاۃ مجھے رقم ملنے کے بعد دینی ہوگی یا ابھی سے دینی ہوگی؟

جواب

قرض پر دی ہوئی رقم کی زکات مالک (یعنی قرض دینے والے) پر لازم ہوتی ہے، جو رقم قرض کے طور پر کسی کو دی ہوئی ہے، اگروہ تنہا یا دوسرے موجود روپوں یا سونا یا چاندی یا مالِ تجارت کے ساتھ  مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زائدہے تو قرض وصول ہونے کےبعد زکاۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، اگرقرض وصول ہونےسے پہلے زکاۃ ادا کرے گا تو زکاۃ ادا ہوجائے گی، وصول ہونے کے بعد گزشتہ ادا کردہ زکاۃ دوبارہ دینا لازم نہیں ہوگی۔ اور اگر قرض وصول ہونے تک زکاۃ ادا نہ کی اور وصولی میں ایک سے زائد سال گزرگئے اور یہ شخص صاحبِ نصاب بھی ہو تو گزشتہ سالوں کی بھی زکاۃ ادا کرنی ہوگی، اس لیے بہتر ہے کہ سال بہ سال زکاۃ کا حساب کرتے وقت قرض دی ہوئی رقم کا بھی حساب کرکے زکاۃ ادا کردے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے بھائی پر جو پندرہ لاکھ روپے قرض ہے، اس پر زکاۃ  واجب ہے، تاہم اس کی ادائیگی قرض وصول ہونے کے بعد لازم ہوگی اور گزشتہ جتنے عرصے کی زکاۃ باقی ہو وہ بھی ادا کی جائے گی۔ البتہ اگر سائل قرض وصول ہونے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کر دے تو زکاۃ ادا ہو جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك.ويعتبر ما مضى من الحول قبل القبض في الأصح، ومثله ما لو ورث دينا على رجل (و) عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف وهو (بدل غير مال) كمهر ودية وبدل كتابة وخلع، إلا إذا كان عنده ما يضم إلى الدين الضعيف كما مر؛ ولو أبرأ رب الدين المديون بعد الحول فلا زكاة سواء كان الدين قويا أو لا خانية، وقيده في المحيط بالمعسر.أما الموسر فهو استهلاك فليحفظ."

(كتاب الزكاة، باب زكاة الأموال، ج:2، ص:307، ط:سعيد)

وفیه ایضاً:

"ولو كان الدين على مقر مليء أو على معسر أو مفلس۔۔۔فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:267،266، ط:سعيد)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں