
میرا نام عادل خان ہے اور میں پشاور کے علاقے موسیٰ زئی سے تعلق رکھتا ہوں، مجھے ایک پریشانی ہے وہ یہ کہ میں بیرون ملک جا رہا ہوں تعلیمی ویزے پر اور میں نے سب کچھ تیار کر لیا ہے مگر ویزا لگوانے کے لیے مجھے بینک اکاؤنٹ درکار ہے، جس میں کم از کم 75 لاکھ ہوں جو کہ میرے پاس اتنی بڑی رقم نہیں ہے، میں ایک بندے سے ملا جس کے پاس 75 لاکھ موجود ہیں، وہ کہتا ہے کہ میں آپ کو 75 لاکھ دو مہینے یا آپ کے کام مکمل ہونے تک دے دوں گا، لیکن وہ کہتا ہےکہ آپ اس کے کچھ فی صد دو گے، مطلب یعنی کہ چھ فیصد یا سات فی صد جو بھی ہو وہ کہتا ہے کہ یہ پرسنٹیج آپ مجھے ایڈوانس میں دو گے، تو تب وہ مجھے 75 لاکھ دے دے گا مطلب چھ فیصد یا سات فیصد جو بھی ٹوٹل رقم کے آتے ہیں وہ میں ایڈوانس میں دوں گا۔
آیا جو پیسے میں اس کو دوں گا، وہ جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے، تو مجھے اس کے متبادل کام بتائیں، جس سے میں اس کو پیسے بھی دوں اور جائز بھی ہو، آپ کی بہت مہربانی ہوگی اگر یہ مسئلہ حل کروا دیں، یہ مسئلہ میری سب سے بڑی مجبوری ہے جو میں خواہ مخواہ کروں گا، اگر یہ نہ کیا، تو میرا ویزا ریجیکٹ ہوجائےگا یعنی نہیں لگے گا، جس سے میں بیرونی ملک جانے سے رہ جاؤں گا۔
صورتِ مسئولہ میں آپ جو مذکورہ شخص سے 75 لاکھ روپے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھنے کے لیے لے رہے ہیں اور ویزہ کا پراسیس مکمل ہوجانے کے بعد اس کو واپس کردیں گے، اس کی حیثیت قرض کی ہے اور وہ شخص آپ سے جو 6 یا 7 فیصد کا مطالبہ کر رہا ہے، یہ اس قرضہ پر نفع کا مطالبہ ہے، جو کہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے اور سود لینے والے اور دینے والے دونوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ طریقہ کے مطابق قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔
اگر آپ کو کوئی شخص بغیر کسی کے معاوضے کے قرضہ دینے کے لیے تیار ہوجائے، تو ٹھیک ورنہ بیرونِ ملک جانے کی بجائے یہیں اپنے وطن میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا اہتمام کریں۔
مسند احمد میں ہے:
"حدثنا حجاج، أخبرنا شريك، عن سماك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لعن الله آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه ."
(مسند احمد، ج:6، ص:358، ط:مؤسسة الرسالة)
رد المحتار میں ہے:
"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام."
(كتاب البيوع، ج:5، ص:166، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704102016
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن