بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض ادا کرنے سے پہلے حج کے لیے جانا مکروہ ہے


سوال

ہم تجارت کرتے ہیں۔ مال خرید کر آگے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ پہلے ہم نے جن لوگوں سے مال خریدا تھا ۔ وہ فروخت نہیں ہو رہا۔ اور وہ لوگ ہم سے قرضہ کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور ہمارےاس تجارت والے مال کی آمدنی اتنی کم ہے کہ اس سے ان کا قرضہ ادا  نہیں کر سکتے ،البتہ تھوڑا تھوڑا کچھ عرصے میں  ادا کرتے رہتے ہیں ،لیکن اس تجارت والے مال کی آمدنی کے علاوہ ہمارے پاس میراث میں حاصل ہونی والی جائیداد وغیرہ ہے۔ تو اگر ہم اس کو بیچتے ہیں تو ہمارا بڑا نقصان ہوتا ہے۔اب شرعی اعتبار سے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

 اس میراث میں حاصل شدہ مال سے اگر میں حج کرنے جاؤں اور مجھ پر قرضہ ہو تو کیا اس سے حج میں کوئی خرابی وغیرہ تو نہیں آئیگی ؟

جواب

واضح رہے کہ قرض اتارنے کی قدرت ہونے کے باوجود قرض اتارنے میں ٹال مٹول کرنا  ظلم ہے،ایسے شخص کے بارے میں حدیث میں بڑی وعید آئی ہے، لہذا  صورت مسئولہ میں اگر سائل کے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے  قرضہ ادا کیا جا سکتا ہے تو سائل پر لازم ہے کہ پہلے اپنا قرضہ ادا کرےاور پھر حج ادا کرنے کے لیے جاۓ، قرضہ اتارنے سے پہلے سائل کے لیے حج پر جانا پسندیدہ نہیں ہے،  تاہم اگر قرضہ اتارنے سے پہلے حج کر لیا جاۓ تو  حج ادا ہو جاۓ گا۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى، عليه الدين، فيسأل: (هل ترك لدينه فضلا). فإن حدث أنه ترك لدينه وفاء صلى، وإلا قال للمسلمين: (صلوا على صاحبكم). فلما فتح الله عليه الفتوح، قال: (أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم، فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه، ومن ترك مالا فلورثته)."

(كتاب الكفالة، باب الدين، ج: 2، ص: 805، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا جاتا جو فوت ہو چکا ہوتا اور اس پر قرض ہوتا، تو آپ ﷺ پوچھتے:کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟اگر بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جو قرض ادا کرنے کے لیے کافی ہے تو آپ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے:تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتوحات عطا فرمائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:میں مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں۔ پس جو مومن فوت ہو اور قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔

الفتاوی الہندیہ میں ہے:

" ويكره الخروج إلى الغزو والحج لمن عليه الدين ."

(كتاب المناسك، الباب الثالث في الإحرام، ج: 1، ص: 221، ط: دار الفكر بيروت )

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں