
میرا تعلق ضلع سوات کے ایک گاؤں سے ہے، اس گاؤں میں بالغ مردوں کی تعداد تقریباً تین ہزار، بلکہ اس سے بھی زائد ہے، گاؤں مختلف محلوں پر مشتمل ہے، اور ہر محلے میں ایک جامع مسجد موجود ہے۔ ہر محلے میں تقریباً پانچ سو سے زائد بالغ مرد رہتے ہیں۔
ہمارے محلے میں دو مسجدیں ہیں: ایک بڑی جامع مسجد اور دوسری نسبتاً چھوٹی مسجد۔ بڑی جامع مسجد میں گزشتہ تقریباً چالیس سے پچاس سال سے مسلسل نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی ہے، جبکہ چھوٹی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا نہیں کی جاتی۔ اس چھوٹی مسجد میں روزانہ کی نمازوں میں تقریباً 30 تا 35 بالغ مرد اور 15 تا 20 بچے باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔
مزید وضاحت یہ ہے کہ ہمارے محلے میں تمام بنیادی ضروریاتِ زندگی اور عوامی سہولیات موجود ہیں، اور گاؤں کے قریب ایک پولیس اسٹیشن بھی واقع ہے۔ نیز گاؤں میں روزمرہ استعمال کی تمام ضروری اشیاء بآسانی دستیاب ہیں۔
اس صورتِ حال میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس چھوٹی مسجد میں بھی نمازِ جمعہ قائم کی جا سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ گاؤں کی آبادی تقریباً تین ہزار نفوس پر مشتمل ہے، گاؤں میں روز مرّہ کی ضرویات کی چیزیں بھی دستیاب ہیں تو یہ قریۂ کبیرہ کے حکم ہے ، اور ایک گاؤں کے مختلف محلے اسی گاؤں کا حصہ شمار ہوتے ہیں، لہذا ایسی صورت میں مذکورہ گاؤں میں جمعہ کی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔
باقی اگر بڑی جامع مسجد میں سب لوگ مل کر جمعہ کی نماز سہولت سے ادا کرسکتے ہوں تو جامع مسجد میں اجتماعی طور پر جمعہ کی نماز ادا کرنا بہتر ہے؛ اس لیے کہ مسلمانوں کے جامع مسجد میں جمع ہوکر ایک ساتھ نماز پڑھنے میں اجر وثواب اور فضیلیت زیادہ ہے، نماز میں جس قدر مجمع زیادہ ہوگا ، اس کا ثواب اور قبولیت کا امکان بھی زیادہ ہوگا ، نیز اس میں مسلمانوں کی شان وشوکت کا اظہار بھی ہے۔ اور اگر جگہ کی دوری یا تنگی یا کسی معقول وجہ سے دوسری چھوٹی مسجد میں بھی جمعہ کی نماز ادا کرلی جائے تو یہ بھی جائز ہے، وہاں بھی جمعہ ادا ہوجائے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر وهو ما لايسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء، مجتبى؛ لظهور التواني في الأحكام، وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض قدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى. وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي وإذا اتصل به الحكم صار مجمعاً عليه فليحفظ.
(قوله: وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 137، 138 ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و تؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة و هو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح."
( کتاب الصلاۃ ، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعة، 1/ 145، ط: رشيدية)
فتویٰ نمبر : 144801101196
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن