بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قریہ کبیرہ کے کچھ فاصلے پر موجود قریہ صغیرہ میں جمعہ کاحکم


سوال

 ایک بستی ہے، جس کی آبادی تقریباً دو ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ضروریات زندگی کی تقریباً تمام اشیاء وہاں پر ملتی ہیں۔ نماز جمعہ اس گاؤں میں تو درست ہے۔ لیکن اس قریہ کبیرہ سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر دوسری بستی آباد ہے، وہاں پر نمازِ جمعہ فی الحال درست نہیں ہے، لیکن یہی بستی ایک جانب سے ایک ،ایک ۔ دو ، دو گھر معمولی فاصلے پر اس قریہ کبیرہ سے ملی ہوئی ہے۔ باہر سے آنے والے شخص کو دونوں بستیاں الگ الگ نظر آتی ہیں۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ جس طرح نماز میں صفوں کے اتصال کیلئے ایک جانب سے بھی دو،دو۔تین، تین آدمی کھڑے ہو جائیں تو پیچھے لوگوں کا اتصال صحیح ہو جاتا ہے، تو کیا ایک بستی کا دوسری بستی کے ساتھ مذکورہ بالا طریقہ سے اتصال ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ عرف میں دونوں الگ الگ بستیاں شمار ہوتی ہیں۔ پس اگر اس چھوٹی بستی کا اتصال مذکورہ بالا طریقہ سے اُس قریہ کبیرہ سے ثابت ہوا پھر تو اس چھوٹی بستی میں بھی نماز جمعہ جائز ہونا چاہیے ۔ آنجناب سے پوچھنا یہ ہے۔ کہ کیا مذکورہ بالا طریقہ پر اس چھوٹی بستی کا اتصال اس قریہ کبیرہ سے ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں ؟اور اس میں نماز جمعہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کےلیے مصر،فناء مصریا ایسا قریہ کبیرہ ہونا شرط ہے جس کی آبادی  تقریبا ڈھائی سے تین ہزار ہو ،اور اس میں روز مرہ  ضروریات کےلیے بازاریں اور دکانیں موجود ہوں ، اس کے برعکس قریہ صغیرہ(چھوٹا گاؤں ، چھوٹی بستی) میں ،جہاں مذکورہ بالا شرائط نہ ہوں جمعہ کی نماز   پڑھنا جائز نہیں ہے بلکہ ایسے گاؤں کے لوگوں پر جمعہ کے دن ظہر کی نماز پڑھنا فرض ہے۔

صورت مسئولہ میں (بیان کردہ تفصیل کے مطابق) بڑی بستی سے کچھ فاصلے پر موجود چھوٹی بستی میں جمعہ کی شرائط مفقود ہیں ،کیونکہ وہ نہ مصریا فناء مصر ہے ،اور نہ ہی ایسی بڑی بستی ہے جس کی آبادی  ڈھائی سے تین ہزار ہواور دکانیں اور بازاریں موجود ہوں ،لہذا اس بستی میں جمعہ جائز نہیں ہے،اور نہ ہی  اس بستی میں رہنے والوں پر جمعہ فرض ہے،بلکہ ان پر جمعہ کے دن اپنے گاؤں میں ظہر کی نماز فرض ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

(قوله شرط أدائها المصر) أي ‌شرط ‌صحتها ‌أن ‌تؤدى ‌في ‌مصر ‌حتى ‌لا ‌تصح ‌في ‌قرية، ‌ولا ‌مفازة لقول علي رضي الله عنه لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله.

وفي ‌حد ‌المصر ‌أقوال ‌كثيرة ‌اختاروا ‌منها ‌قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه، وفي الولوالجية وهو الصحيح."

(كتاب الصلوة،باب صلوة الجمعة،ج:2،ص: 152،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء...(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لاكما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي.

 

وعبارة القهستاني تقع فرضا ‌في ‌القصبات ‌والقرى ‌الكبيرة ‌التي ‌فيها ‌أسواق...وفيما ‌ذكرنا ‌إشارة ‌إلى ‌أنه ‌لا ‌تجوز ‌في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر."

(كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج:2،ص:138،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن لا تجب عليهم الجمعة ‌من ‌أهل ‌القرى ‌والبوادي ‌لهم ‌أن ‌يصلوا ‌الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة."

(كتاب الصلاة،الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج:1،ص: 145،ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144611102859

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں