
میں شعبۂ حفظ کا معلم ہوں، مجھے طویل وقت تک مسند پر بیٹھنا پڑتا ہے جس سے تھکاوٹ اورطبیعت بوجھل ہو جاتی ہے، توکچھ دیر کے لیے میں ٹیک لگا کر، یا بنا پیر پھیلائے اور بنا ٹیک لگائے صرف پیر موڑ کر پیر پر پیر رکھ کر بیٹھ جاتا ہوں، اور بچوں کا پارہ سن لیتا ہوں۔
تو سوال یہ ہے کیا اس طرح میرا بیٹھنا قرآن کے ادب کے خلاف ہے یا نہیں؟
بصورتِ مسئولہ اگر اس طرح ٹیک لگا کر یا پاؤں پر پاؤں رکھ کر بیٹھنا قرآن سے بے توجہی کے لیے نہ ہو، بلکہ طبیعت میں نشاط پیدا کرنے کے لیے اور تازہ دم ہو جانے کی نیت سے ہو، تو ایسا کرنا قرآن کی بے ادبی میں داخل نہیں ہوگا، قاری صاحب کے لیے ضرورت کی وجہ سے کچھ دیر اس ہیئت پر بیٹھنا جائز ہے۔
الإتقان في علوم القرآن میں ہے:
"يسن الاستماع لقراءة القرآن وترك اللغط والحديث بحضور القراءة قال تعالى : وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم."
(النوع الخامس والثلاثون، ١/ ٣٨١، ط: الهيئة المصرية)
التبيان في آداب حملة القرآن میں ہے:
"ومن آدابه المتأكدة وما يعتنى به أن يصون يديه في حال الإقراء عن العبث وعينيه عن تفريق نظرهما من غير حاجة، ويقعد على طهارة مستقبل القبلة، ويجلس بوقار، وتكون ثيابه بيضا نظيفة . . . ويجلس متربعا إن شاء أو غير متربع روى أبو بكر بن أبي داود السجستاني باسناده عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه كان يقرئ الناس في المسجد جاثيا على ركبتيه."
(الباب الرابع في آداب معلم القرآن ومتعلمه، ص: ٤٤، ط: دار ابن حزم)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100449
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن